افغان حکام اور مقامی ذرائع ابلاغ نے پاکستان پر مشرقی افغانستان میں حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں کنڑ صوبے میں واقع سید جمال الدین افغان یونیورسٹی کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق حملے میں یونیورسٹی کے ساتھ قریبی رہائشی علاقے بھی متاثر ہوئے، جبکہ طلبہ، تدریسی عملے اور شہریوں کے زخمی اور جاں بحق ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ حملہ کنڑ کے دارالحکومت اسد آباد اور اس کے گردونواح میں ہوا۔ یونیورسٹی کی عمارت، خاص طور پر شعبۂ تعلیم، کو نقصان پہنچنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم جانی نقصان کے اعداد و شمار مختلف بتائے جا رہے ہیں۔ بعض اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ کم از کم سات افراد جاں بحق اور 75 زخمی ہوئے، جبکہ ایک اور رپورٹ میں افغانستان کی وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ تقریباً 30 طلبہ اور عملے کے ارکان زخمی ہوئے۔
دوسری جانب پاکستان نے اس الزام کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور پاکستان نے نہ تو یونیورسٹی کو نشانہ بنایا اور نہ ہی قریبی شہری آبادی پر کوئی حملہ کیا۔ یوں اس مرحلے پر معاملہ ایک متنازع دعوے کی صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں افغان جانب سے براہِ راست الزام عائد کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان واضح تردید کر رہا ہے۔
یہ واقعہ کسی ایک حملے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر سرحدی تنازع کا حصہ معلوم ہوتا ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اس سے پہلے بھی افغانستان، پاکستان پر کنڑ میں اسد آباد کے نواحی علاقوں پر گولہ باری کا الزام عائد کر چکا ہے، جس میں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ موجودہ صورتحال کو دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں کی شدید ترین سرحدی کشیدگی میں شمار کیا جا رہا ہے۔
انسانی پہلو سے دیکھا جائے تو یہ تنازع پہلے ہی بہت بھاری قیمت وصول کر چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی جائزوں کے مطابق فروری کے آخر سے سرحدی گولہ باری، فضائی حملوں اور مسلح جھڑپوں میں سینکڑوں شہری متاثر ہوئے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ عارضی عید جنگ بندی کے دوران اور اس کے بعد بھی تشدد کے واقعات جاری رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات اب بھی غیر معمولی حد تک نازک ہیں۔
فی الحال ایک بات احتیاط سے کہنا ضروری ہے: دستیاب معلومات کی بنیاد پر ابھی تک ایسی آزادانہ اور حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی جس سے یہ قطعی طور پر ثابت ہو سکے کہ یونیورسٹی پر ہونے والے مبینہ حملے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اتنا ضرور واضح ہے کہ افغان حکام اور ذرائع پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، پاکستان اس کی تردید کر رہا ہے، اور یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی شدید دباؤ میں ہیں۔
