کراچی میں کے-الیکٹرک کے اہلکاروں کے بھیس میں آنے والے مبینہ ڈاکوؤں نے ایک رہائشی عمارت میں داخل ہو کر لوٹ مار کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان نے خود کو یوٹیلیٹی اسٹاف ظاہر کر کے عمارت میں رسائی حاصل کی، جس کے بعد واردات کر کے فرار ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق ملزمان نے اپنی شناخت ایسے ظاہر کی کہ عمارت کے مکینوں یا عملے کو فوری طور پر شک نہ ہو۔ اندر داخل ہونے کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر لوٹ مار کی اور موقع سے نکل گئے۔ تاہم واقعے کی درست جگہ، ملزمان کی تعداد اور لوٹے گئے سامان کی مجموعی مالیت سے متعلق تفصیلات ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔
پولیس امکاناً سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے گی اور رہائشیوں و عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کرے گی تاکہ واردات کی نوعیت اور منصوبہ بندی کو سمجھا جا سکے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا ملزمان نے عمارت کو پہلے سے نشانہ بنایا تھا یا موقع دیکھ کر واردات کی۔
اس واقعے کے بعد ایک بار پھر ایسے جرائم پر تشویش بڑھ گئی ہے جن میں ملزمان یوٹیلیٹی، مرمت یا سروس عملے کا بھیس بدل کر رہائشی عمارتوں میں داخل ہوتے ہیں۔ شہری علاقوں میں یہ طریقہ خاص طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں عوام کے اعتماد کو استعمال کیا جاتا ہے۔
شہریوں اور عمارتی انتظامیہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کسی بھی یوٹیلیٹی یا سروس اہلکار کو اندر آنے دینے سے پہلے اس کی شناخت کی تصدیق ضرور کریں۔ متعلقہ ادارے سے براہِ راست رابطہ، وزیٹر لاگ اور داخلی نگرانی جیسے اقدامات ایسے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
چونکہ اس مخصوص واقعے کی تمام تفصیلات ابھی مضبوط اور واضح رپورٹنگ سے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں، اس لیے مزید معلومات سامنے آنے پر خبر میں تبدیلی ممکن ہے۔
اس خبر کا beat: جرائم / سٹی
