انڈونیشیا کے جزیرے ہلماہیرا پر واقع ماؤنٹ ڈوکونو کے پھٹنے کے بعد کم از کم تین ہائیکرز کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ مزید لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو سنگاپوری اور ایک انڈونیشین شامل ہیں، البتہ لاپتا افراد کی تعداد مختلف رپورٹس میں کچھ فرق کے ساتھ سامنے آئی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آتش فشاں سے راکھ کا بادل تقریباً 10 کلومیٹر بلند ہوا، جس کے بعد فوری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ انڈونیشیا کی باسارناس ایجنسی کے اہلکار طبی سامان اور اسٹریچرز کے ساتھ علاقے میں پہنچے، جبکہ راکھ گرنے کے باعث قریبی آبادیوں اور ٹرانسپورٹ کے لیے بھی خطرات پیدا ہو گئے۔
اس واقعے کی سنگینی اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ماؤنٹ ڈوکونو پہلے ہی خطرناک آتش فشاں سمجھا جاتا تھا۔ انڈونیشیا کی پی وی ایم بی جی اپ ڈیٹس پر مبنی نگرانی رپورٹس کے مطابق وہاں مسلسل سرگرمی جاری تھی اور لوگوں کو crater کے قریب نہ جانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اسمتھسونین کے گلوبل وولکینزم پروگرام کے مطابق ڈوکونو میں 1933 سے تقریباً مسلسل دھماکہ خیز سرگرمی دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم مجموعی جانی نقصان اور لاپتا افراد کی تعداد کے بارے میں ابھی کچھ ابہام موجود ہے۔ ایک تفصیلی موجودہ رپورٹ میں 10 افراد لاپتا بتائے گئے ہیں، جبکہ دوسری ابتدائی رپورٹوں میں یہ تعداد پہلے زیادہ بتائی گئی تھی۔ دور دراز اور خطرناک آتش فشانی علاقوں میں ابتدائی گھنٹوں کے دوران اس طرح کے فرق آنا غیر معمولی نہیں ہوتا۔
