راولپنڈی — مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور نازک صورتحال کے دوران ایک اہم سفارتی و عسکری پیش رفت میں لبنانی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف، جنرل روڈولف ہیکل نے آج جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس اعلیٰ سطحی بیٹھک میں دوطرفہ عسکری تعلقات کو وسعت دینے اور خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
جی ایچ کیو آمد پر معزز مہمان کا روایتی جوش و خروش سے استقبال کیا گیا اور پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا، جس کے بعد باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوا۔ لبنانی آرمی چیف کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ شدید عدم استحکام کی زد میں ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، دونوں عسکری رہنماؤں کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور، دفاعی تعاون اور ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق: "مذاکرات میں دونوں ممالک کی مسلح افواج کے مابین پیشہ ورانہ روابط، تربیتی تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔”
ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لبنان کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد بیروت کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ آرمی چیف نے ان مشکل حالات میں لبنانی مسلح افواج کی استعداد کار بڑھانے اور عسکری تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فعال طور پر وسیع کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ دورہ ایک ایسے نازک موڑ پر ہو رہا ہے جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور لبنانی سرحد پر جنگ بندی کے معاہدوں کو درپیش خطرات کے باعث خطے میں غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جہاں پاکستان ایک متوازن اور مصالحت پسندانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لبنانی فوج کے سربراہ، جنرل روڈولف ہیکل نے پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور جنگی صلاحیتوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔ انہوں نے عالمی امن، بالخصوص لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن (UNIFIL) کے تحت پاکستانی دستوں کی تاریخی خدمات کا اعتراف کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کی۔
دفاعی ماہرین اس دورے کو لبنان کے لیے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں جو اس وقت بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کے سامنے اپنے ریاستی اداروں اور دفاعی نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر منظر نامے میں ایک اہم سفارتی اور امن دوست ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔
