پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف جنرل اپیندر دویدی کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ بھارتی جنرل نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ "جغرافیے کا حصہ” بننا چاہتا ہے یا نہیں۔
بھارتی آرمی چیف نے ایک سیکیورٹی کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان کو اپنی حکمت عملی طے کرنا ہوگی، ورنہ اسے علاقائی تنہائی کا سامنا رہے گا۔ انہوں نے پاکستان پر سرحد پار مداخلت کا پرانا الزام دہراتے ہوئے اسے علاقائی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا۔
آئی ایس پی آر نے اس بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی قیادت اپنے داخلی مسائل اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی بیان بازی کا سہارا لیتی ہے۔ ترجمانِ فوج کے مطابق، پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور خودمختاری پر سوال اٹھانا بھارتی حکام کی ہٹ دھرمی اور حقیقت پسندی کے فقدان کا ثبوت ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی جمود کا شکار ہیں۔ عوامی سطح پر ہونے والی یہ لفظی گولہ باری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کے امکانات فی الحال معدوم ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت میں انتخابی اور سیاسی مقاصد کے لیے پاکستان مخالف بیانیے کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔
پاکستان کی جانب سے اس بیان کو مسترد کیے جانے کے بعد، خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ جہاں ایک جانب بھارت مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کر رہا ہے، وہیں پاکستان اپنی معاشی اور سیکیورٹی ضروریات کے لیے چین کے ساتھ تزویراتی شراکت داری پر انحصار کر رہا ہے۔
بھارتی آرمی چیف کا یہ مطالبہ کہ پاکستان "جغرافیے کا انتخاب” کرے، زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد ایک اٹل حقیقت ہے، اور اس طرح کے بیانات صرف تلخی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، جبکہ باہمی مسائل کا حل مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہے جس کا فی الحال کوئی عندیہ دکھائی نہیں دیتا۔
