کرسٹیانو رونالڈو کا ایشین چیمپئنز لیگ ٹرافی اٹھانے کا خواب منگل کی شب کنگ سعود یونیورسٹی اسٹیڈیم میں دم توڑ گیا۔ النصر کو العین کے ہاتھوں 1-0 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد سعودی کلب کی براعظمی فتوحات کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔
میچ کا فیصلہ کن لمحہ پہلے ہاف کے وسط میں آیا۔ العین کے سفیان رحیمی نے النصر کے دفاعی کھلاڑیوں کی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ اس ایک گول نے میچ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا اور النصر آخری لمحات تک اس خسارے کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کرتی نظر آئی۔
رونالڈو پورے میچ کے دوران مایوس دکھائی دیے۔ وہ اکثر مڈفیلڈ میں پیچھے کی جانب آتے رہے تاکہ گیند کو کنٹرول کر سکیں، لیکن انہیں ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے وہ مدد نہ مل سکی جس کی توقع تھی۔ دوسرے ہاف میں جب انہیں گول کرنے کا سنہری موقع ملا، تو وہ گیند کو جال میں پہنچانے میں ناکام رہے—ایک ایسی غلطی جس نے ہوم کراؤڈ کی رہی سہی امیدیں بھی ختم کر دیں۔
یہ شکست لوئس کاسترو کی زیرِ قیادت النصر کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ دنیا بھر کے نامور کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے باوجود، النصر اہم مقابلوں میں دباؤ برداشت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رونالڈو، جنہوں نے کلب کے ساتھ معاہدہ اس لیے کیا تھا کہ وہ اپنی ٹرافیوں کی فہرست میں ایک اور اعزاز شامل کر سکیں، اب خالی ہاتھ ہیں۔
دوسری جانب العین نے انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے النصر کے کمزور دفاع کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی برتری کا دفاع کیا بلکہ کھیل کی رفتار کو بھی اپنے قابو میں رکھا، یہاں تک کہ آخری سیٹی بج گئی۔
اس شکست کے بعد النصر کے پاس اب صرف مقامی مقابلوں میں اپنی ساکھ بچانے کا موقع ہے۔ رونالڈو کے لیے یہ رات ایک یاد دہانی تھی کہ فٹ بال کے میدان میں نام کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ناک آؤٹ مقابلوں کی بے رحمی سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ میچ کے اختتام پر وہ تنہا میدان سے باہر نکلے—وہ ٹرافی جس کی انہیں سب سے زیادہ خواہش تھی، اب بھی ان کی پہنچ سے دور ہے۔
