امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ جرمنی میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے امکان کا “جائزہ” لے رہی ہے، اور اس بارے میں فیصلہ جلد سامنے آ سکتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب واشنگٹن اور برلن کے درمیان ایران جنگ، نیٹو کے بوجھ کی تقسیم، اور یورپی سلامتی کے معاملے پر تناؤ بڑھا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے تبصرے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ان بیانات کے بعد سامنے آئے جن میں انہوں نے ایران کے معاملے پر امریکی حکمتِ عملی پر تنقید کی تھی۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ جرمنی میں امریکی فوجی موجودگی اب پالیسی جائزے کے دائرے میں ہے۔ Associated Press کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاملہ زیرِ غور ہے اور تبدیلی “جلد” ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ صرف سفارتی نوک جھونک تک محدود نہیں۔ جرمنی امریکی فوج کے لیے یورپ میں ایک مرکزی عسکری مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں اہم اڈے، لاجسٹک سہولتیں، اور امریکی یورپی و افریقی کمانڈ کے ڈھانچے موجود ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جرمنی میں تقریباً 30 ہزار سے 35 ہزار امریکی فوجی اور ہزاروں دفاعی سویلین اہلکار موجود ہیں، جب کہ AP نے رامشٹائن ایئر بیس اور یورپی و افریقی کمانڈ ہیڈکوارٹرز کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
پس منظر بھی اہم ہے۔ ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی جرمنی سے امریکی فوجی کم کرنے کی کوشش کر چکے تھے، لیکن اس منصوبے کو بعد میں کانگریس اور پھر بائیڈن انتظامیہ کے فیصلوں نے روک دیا یا واپس لے لیا۔ اس بار فرق یہ ہے کہ بحث صرف اخراجات یا نیٹو burden-sharing تک محدود نہیں رہی، بلکہ ایران جنگ اور یورپ کے اس پر ردعمل نے بھی اسے زیادہ حساس بنا دیا ہے۔
نیٹو کے اندر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اتحاد کی 2025 سالانہ رپورٹ کے مطابق رکن ممالک نے 2035 تک دفاع اور متعلقہ سلامتی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار کے 5 فیصد تک لے جانے کا ہدف منظور کیا۔ اس تناظر میں واشنگٹن بار بار یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ یورپی اتحادیوں کو اپنی دفاعی ذمے داری زیادہ سنجیدگی سے اٹھانا چاہیے۔ اسی لیے جرمنی میں امریکی فوجی موجودگی کا معاملہ محض اڈوں کی تعداد کا سوال نہیں بلکہ اتحاد کے اندر طاقت کے توازن اور سیاسی اعتماد کا بھی مسئلہ بن گیا ہے۔
اس خبر کا ایک اور پہلو بھی ہے: اگر واقعی فوجی کمی کی جاتی ہے تو اس کے اثرات جرمنی سے کہیں آگے جائیں گے۔ جرمنی طویل عرصے سے امریکہ کی یورپی فوجی منصوبہ بندی، رسد، طبی انخلا اور تیز تعیناتی کے لیے ایک بنیادی مرکز رہا ہے۔ ایسی کسی بھی کمی سے روس کے حوالے سے یورپی دفاعی تیاری، مشرقِ وسطیٰ سے متعلق امریکی آپریشنل صلاحیت، اور نیٹو کے اندر سیاسی اعتماد—تینوں پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ یہ اندازہ دستیاب رپورٹنگ اور جرمنی کے موجودہ عسکری کردار سے اخذ کیا جا رہا ہے۔
فی الحال حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، مگر اشارہ واضح ہے: واشنگٹن جرمنی میں اپنی فوجی موجودگی کو اب ایک اسٹریٹجک اور سیاسی leverage کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ برلن کی کوشش غالباً یہی ہوگی کہ بات صرف بیانات تک رہے، کیونکہ عملی کمی کی صورت میں یورپ کی سلامتی کے ڈھانچے پر اس کے اثرات فوری محسوس ہو سکتے ہیں۔
