سیول: جنوبی کوریا میں بی ٹی ایس کے حالیہ کنسرٹس دیکھنے آنے والے غیر ملکی شائقین نے عام سیاحوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کی، اور نئے اعداد و شمار کے مطابق یہ ثقافتی تقاریب ملکی سیاحت کے لیے ایک بڑی معاشی قوت بن کر سامنے آئی ہیں۔ ہانا کارڈ کے تجزیے میں کہا گیا کہ بی ٹی ایس کے کنسرٹس سے وابستہ غیر ملکی حاضرین نے یکم جنوری سے 12 اپریل 2026 کے درمیان تقریباً 55.5 ارب وون خرچ کیے، جبکہ فی فرد اوسط خرچ لگ بھگ 18 لاکھ 50 ہزار وون رہا۔
یہ تخمینہ تقریباً 30 ہزار غیر ملکی صارفین کے ادائیگی ریکارڈ پر مبنی تھا، جنہوں نے گویانگ میں ہونے والے بی ٹی ایس ورلڈ ٹور “Arirang” کے لیے سفری پلیٹ فارم کے ذریعے ٹکٹ خریدے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس خرچ میں ہوائی سفر، ہوٹل، مقامی نقل و حمل، کھانے پینے اور خریداری جیسے اخراجات شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کنسرٹ حاضرین کا اوسط خرچ عام غیر ملکی سیاحوں سے واضح طور پر زیادہ دکھائی دیا۔
اعداد و شمار صرف کنسرٹ ٹکٹوں کی کہانی نہیں سناتے۔ جنوبی کوریا میں مارچ 2026 کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، اور سرکاری و خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق اس اضافے میں بی ٹی ایس کی واپسی اور ان کے عالمی دورے نے نمایاں کردار ادا کیا۔ رائٹرز کے مطابق مارچ میں جنوبی کوریا نے تقریباً 20 لاکھ 60 ہزار غیر ملکی زائرین کا خیرمقدم کیا، جو ایک ماہ میں آنے والوں کی ریکارڈ تعداد تھی۔
بی ٹی ایس نے تقریباً چار برس کے وقفے کے بعد، جو لازمی فوجی خدمت کے باعث آیا، 2026 میں دوبارہ بڑے پیمانے پر اسٹیج پر واپسی کی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق گروپ نے جنوبی کوریا سے اپنے عالمی دورے کا آغاز کیا، اور ان کی واپسی نے نہ صرف مداحوں میں غیر معمولی جوش پیدا کیا بلکہ حکام اور کاروباری حلقوں کو بھی یہ یاد دلایا کہ کے-پاپ اب صرف تفریح نہیں، ایک باقاعدہ معاشی انجن بن چکا ہے۔
کاروباری سطح پر بھی اس کا اثر فوری دیکھا گیا۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق کنسرٹ مقام کے قریب کیفے، سہولت اسٹورز اور دیگر چھوٹے کاروباروں میں غیر ملکی کارڈ ٹرانزیکشنز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے بڑے موسیقی ایونٹس کا فائدہ صرف منتظمین یا ٹکٹ فروشوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ مقامی معیشت کی کئی تہوں تک پہنچتا ہے۔
جنوبی کوریا کے لیے یہ خبر اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ ملک کئی برس سے اپنی سیاحتی صنعت کو ثقافتی برآمدات کے ساتھ جوڑ کر آگے بڑھا رہا ہے۔ بی ٹی ایس کی واپسی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ پاپ کلچر برانڈز، خاص طور پر کے-پاپ، نہ صرف سافٹ پاور بڑھاتے ہیں بلکہ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ریٹیل اور فضائی سفر تک حقیقی آمدنی بھی پہنچاتے ہیں۔ اور سادہ لفظوں میں کہا جائے تو، مداح صرف شو دیکھنے نہیں آئے — وہ پورا معاشی اثر چھوڑ کر گئے۔
