نیویارک: ملکہ کیملا نے بدھ، 29 اپریل 2026 کو نیویارک پبلک لائبریری میں ایک خصوصی ادبی تقریب میں شرکت کی، جہاں ان کے ساتھ اداکارہ سارہ جیسیکا پارکر، ووگ کی عالمی ادارتی سربراہ اینا ونٹور، جینا بش ہیگر اور ادبی و اشاعتی حلقوں کی کئی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔ یہ تقریب The Queen’s Reading Room کے تحت منعقد ہوئی، جو مطالعے اور کتاب خوانی کے فروغ کے لیے ملکہ کیملا کی معروف مہم ہے۔
تقریب کی خاص بات وہ لمحہ تھا جب ملکہ کیملا نے وِنی دی پوہ کی دنیا سے تعلق رکھنے والا ایک نیا تیار کردہ "رو” کھلونا نیویارک پبلک لائبریری کو پیش کیا۔ اس پیشکش کو علامتی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ لائبریری میں پہلے ہی پوہ، پگلیٹ، ٹِگر، ایور اور کانگا سے متعلق اصل تاریخی کھلونے موجود ہیں، جبکہ "رو” طویل عرصے سے اس مجموعے سے غائب سمجھا جاتا تھا۔ لائبریری نے اس تحفے کو اپنی عالمی شہرت یافتہ کلیکشن کے لیے ایک معنی خیز اضافہ قرار دیا۔
ملکہ کیملا نے اپنی گفتگو میں کتابوں کی طاقت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کہانیاں لوگوں کو قریب لاتی ہیں اور سرحدوں سے بالاتر ہو کر ربط پیدا کرتی ہیں۔ امریکی نشریاتی کوریج کے مطابق انہوں نے بچپن کی کتابوں اور کرداروں کو اپنے ابتدائی امریکی تعارف کا حصہ بھی قرار دیا، جس سے تقریب کا ادبی اور جذباتی پہلو مزید نمایاں ہو گیا۔
یہ تقریب شاہی دورے کے ایک وسیع تر پروگرام کا حصہ تھی۔ اسی روز ملکہ کیملا اور شاہ چارلس سوم نے نیویارک میں نیشنل 9/11 میموریل کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے 2001 کے حملوں کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اہلِ خانہ و فرسٹ ریسپانڈرز سے ملاقات کی۔ بعد ازاں دونوں نے الگ الگ تقریبات میں شرکت کی، جن میں ملکہ کیملا نے ادب پر مرکوز تقریب سنبھالی جبکہ شاہ چارلس نے اپنے دیگر سماجی منصوبوں سے متعلق مصروفیات نبھائیں۔
اس تقریب نے صرف شاہی موجودگی یا ستاروں کی شرکت کی وجہ سے توجہ حاصل نہیں کی، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے برطانیہ اور امریکا کے درمیان ثقافتی رابطے، بچوں کے ادب کی علامتی وراثت، اور مطالعے کے فروغ جیسے موضوعات کو ایک ہی اسٹیج پر جمع کر دیا۔ نیویارک پبلک لائبریری میں "رو” کی شمولیت کو کئی مبصرین ایک نرم مگر مؤثر ثقافتی اشارہ قرار دے رہے ہیں—ایسا اشارہ جو خبروں کی تیزی کے بیچ کتابوں کی خاموش طاقت یاد دلاتا ہے۔
