کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں منگل کی رات دیر گئے مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ایک آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کو قتل کر دیا، جس سے شہر میں اسٹریٹ کرائم اور ٹارگٹڈ تشدد کی لہر میں ایک اور المناک اضافہ ہوا ہے۔
پولیس نے مقتول کی شناخت 35 سالہ محمد ارشد کے نام سے کی ہے، جو سرجانی ٹاؤن کا رہائشی تھا اور گزشتہ تین سال سے ایک رائیڈ ہیلنگ سروس سے وابستہ تھا۔ پولیس پیٹرولنگ پارٹی جب بلاک 13 کے قریب پہنچی تو ارشد اپنی سفید سیڈان گاڑی میں اسٹیئرنگ پر گرے ہوئے پائے گئے؛ گاڑی کا انجن اس وقت بھی اسٹارٹ تھا۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ ڈکیتی معلوم ہوتا ہے، تاہم جس مہارت سے گولی چلائی گئی اس نے ٹارگٹ کلنگ کے شبہات کو بھی جنم دیا ہے۔ ارشد کے سر میں قریب سے ایک گولی ماری گئی۔ ملزمان مقتول کا اسمارٹ فون، پرس اور دن بھر کی نقدی لے کر فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
جائے وقوعہ پر موجود ایک سینئر تفتیشی افسر نے بتایا کہ "ہم قریبی تجارتی عمارتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر رہے ہیں۔ بظاہر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے گاڑی کو روکا، گولی چلائی اور چند سیکنڈز میں سامان چھین کر غائب ہو گئے۔”
واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر جمع ہونے والے علاقہ مکینوں نے پولیس کی عدم موجودگی اور ناقص پیٹرولنگ پر شدید احتجاج کیا۔ کراچی میں رات کے وقت ٹیکسی چلانے والے ڈرائیورز کے لیے یہ واقعہ ایک خوفناک یاد دہانی ہے کہ شہر کی سڑکیں اب ان کے لیے محفوظ نہیں رہیں۔
جناح اسپتال (JPMC) میں بدھ کی صبح مقتول کے لواحقین کا ہجوم تھا جو پوسٹ مارٹم کی تکمیل کے منتظر تھے۔ دو بچوں کے باپ ارشد کے بھائی نے روتے ہوئے بتایا کہ "اس نے شام چار بجے کام شروع کیا تھا اور وہ آدھی رات تک گھر واپس آنے والا تھا۔ اس نے آخری فون پر کہا تھا کہ بس ایک آخری سواری چھوڑ کر آ رہا ہوں، لیکن وہ کبھی نہیں پہنچ سکا۔”
سندھ کے محکمہ داخلہ نے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، البتہ پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ بدھ کی دوپہر تک اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
رواں ماہ کراچی میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کے ساتھ پیش آنے والا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ جب تک حکام صرف مقدمات درج کرنے کے بجائے ان ہائی رسک زونز میں موثر سیکیورٹی پلان ترتیب نہیں دیتے، محنت کش طبقہ اسی طرح سڑکوں پر لقمہ اجل بنتا رہے گا۔
