اسرائیلی فوج نے جمعرات کی صبح غزہ جانے والے امدادی بحری قافلے کے ایک حصے کو یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا، جس کے بعد 20 سے زائد کشتیوں پر سوار کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ تقریباً 175 کارکنوں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ منتظمین نے اس کارروائی کو غزہ سے بہت دور شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے مترادف قرار دیا۔
یہ قافلہ، جسے گلوبل صمود فلوٹیلا کہا جا رہا ہے، رواں ماہ کے آغاز میں بارسلونا سے روانہ ہوا تھا۔ منتظمین کے مطابق اس کا مقصد ایک طرف غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانا تھا اور دوسری طرف وہاں جاری انسانی بحران پر عالمی توجہ دوبارہ مرکوز کرانا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس مہم میں 70 سے زیادہ کشتیاں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ ایک ہزار افراد شامل تھے، جبکہ سفر کے دوران مزید کشتیاں بھی اس میں شامل ہوئیں۔
رات بھر ہونے والی یہ کارروائی متضاد دعوؤں کے بیچ گھری رہی۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے اس وقت مداخلت کی جب قافلہ ابھی غزہ سے سینکڑوں میل دور تھا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گروپ کے جاری کردہ ٹریکر سے ظاہر ہوا کہ جمعرات کی صبح تک 22 کشتیوں کو کریٹ کے مغرب میں روک لیا گیا تھا جبکہ 36 مزید کشتیاں ابھی سفر میں تھیں۔
اسرائیل نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے ایک بار پھر غزہ کی بحری ناکہ بندی کا حوالہ دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ 2007 میں حماس کے غزہ پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے نافذ یہ پابندیاں اس لیے ہیں تاکہ اسلحہ اور جنگی سامان غزہ نہ پہنچ سکے۔ دوسری جانب امدادی کارکنوں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی غزہ کے عام شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریات کی شدید قلت برقرار ہے۔
قافلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مشن کی نوعیت صرف امدادی نہیں بلکہ علامتی بھی تھی۔ ان کے بقول مقصد یہ بتانا تھا کہ غزہ میں انسانی صورتحال بدستور سنگین ہے اور محدود امدادی رسائی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ اے پی کے مطابق اس وقت امداد کا صرف محدود حصہ ایک اسرائیلی کنٹرول والے راستے سے اندر جا رہا ہے، اور اسی وجہ سے ایسے بحری مشن بار بار سامنے آتے رہے ہیں، حالانکہ ان میں رکاوٹ اور گرفتاری کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
اس واقعے پر ترکی نے سخت ردِعمل دیا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے اس کارروائی کو “قزاقی” قرار دیا اور کہا کہ یہ قدم انسانی اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ترک حکام کے مطابق وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اس معاملے پر اپنے ہسپانوی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جلد ہی ایک وسیع سفارتی تنازع میں بدل گیا۔
یونان میں بھی اس پر تنقید سامنے آئی۔ ایتھنز میں سرگرم کارکنوں نے دعویٰ کیا کہ کارروائی ایسے سمندری علاقے میں ہوئی جہاں تلاش و بچاؤ کی ذمہ داری یونان پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یونانی حکام نے مداخلت نہیں کی، جس کے خلاف یونانی وزارتِ خارجہ کے باہر احتجاج کی بھی کال دی گئی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب غزہ پہلے ہی شدید انسانی دباؤ کا شکار ہے۔ اے پی کے مطابق غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ چھ ماہ پرانی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 790 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جبکہ جنگ کے آغاز سے اب تک مجموعی فلسطینی ہلاکتیں 72,300 تک پہنچ چکی ہیں۔ دوسری طرف 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل میں تقریباً 1,200 افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ یہی اعداد و شمار اس پورے تنازع، ناکہ بندی، اور غزہ تک امداد پہنچانے کے طریقۂ کار پر جاری عالمی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسی نیٹ ورک کی جانب سے ایسا بحری مشن بھیجا گیا ہو۔ اس سے پہلے بھی ایک کوشش روک دی گئی تھی، اور اسرائیلی حکام پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ وہ ایسے کسی قافلے کو بحری ناکہ بندی توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ستمبر 2025 میں اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس طرح کے قافلوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے، اور اگر امداد پہنچانا مقصود ہو تو اسے اشکلون کے ذریعے باقاعدہ نگرانی میں غزہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال صورتحال پوری طرح واضح نہیں۔ کچھ کارکن اسرائیلی تحویل میں پہنچ چکے ہیں، کئی کشتیاں روکی جا چکی ہیں، جبکہ کچھ اب بھی سمندر میں موجود ہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے: غزہ کی جنگ اور انسانی بحران کے اثرات اب صرف غزہ کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ بحیرۂ روم کے وسط تک پھیل چکے ہیں۔
