پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے ایک سال مکمل ہونے پر 5 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے اس دن کو "یومِ استحصال” اور اپنے لیڈر کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد موجودہ حکومت پر عوامی دباؤ کو دوبارہ بڑھانا ہے۔
یہ فیصلہ پارٹی کے اندرونی اجلاسوں کے بعد کیا گیا ہے، جہاں طویل عرصے سے جاری سیاسی تعطل کو توڑنے کے لیے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے لیے یہ ریلیاں صرف ایک سالہ برسی نہیں، بلکہ حکومت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ گزشتہ ایک سال سیاسی جبر اور معاشی ابتری کا شکار رہا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکومتی اتحاد پر عائد ہوتی ہے۔
پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ اس نظام کے خلاف عوامی ریفرنڈم ہے جو عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔”
دوسری جانب، حکومت نے ان مظاہروں کو روکنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں سیکیورٹی اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ ماضی میں ایسی کالز کے جواب میں حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کا نفاذ اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ معمول رہی ہے، جس کے باعث 5 اگست کو پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان تصادم کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
پی ٹی آئی اس دن کو کشمیر کے حوالے سے بھی جوڑ رہی ہے، تاکہ حکومت کو قومی اور بین الاقوامی محاذوں پر ناکام ثابت کیا جا سکے۔
عام شہریوں کے لیے اس اعلان کا مطلب سڑکوں کی بندش، موبائل سروس میں خلل اور کاروباری مراکز کی غیر یقینی صورتحال ہے۔ بڑے شہروں کے تاجر پہلے ہی ممکنہ ہڑتالوں کے پیشِ نظر خدشات کا شکار ہیں، جو ملکی سیاست کے گرم ہوتے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
پارٹی کی مرکزی قیادت کے ایک بڑے حصے کی گرفتاری یا روپوشی کے بعد، اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ پی ٹی آئی کا نچلی سطح کا نیٹ ورک سیکیورٹی حصار کو توڑ کر کتنا متحرک ہو پاتا ہے۔ 5 اگست کے مظاہرے کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے یا پھر گرفتاریوں اور خاموشی کے ایک پرانے چکر کا تسلسل، یہ آنے والے چند دن واضح کر دیں گے۔
