سول ایوی ایشن اتھارٹینے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کو باضابطہ طور پر لیڈ ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کی ایوی ایشن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے، جس کا مقصد سرکاری انتظام میں چلنے والے ایئرپورٹ کو نجی شعبے کی مہارت سے جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
منگل کے روز دستخط کیے گئے اس معاہدے کے تحت، اب اس سودے کی ساخت، قانونی پیچیدگیوں اور نجی آپریٹر کے انتخاب کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ حکومت کا ہدف واضح ہے: ایئرپورٹ پر سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا اور نان ایروناٹیکل ریونیو میں اضافہ کرنا، تاکہ ایئرپورٹ کو چلانے کا بوجھ براہِ راست سرکاری خزانے پر نہ پڑے۔
مسافروں کے لیے یہ تبدیلی اہم ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ طویل عرصے سے سہولیات کے فقدان اور ناقص سروس کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے۔ ایوی ایشن وزارت کو امید ہے کہ نجی آپریٹر کے آنے سے استنبول یا دوحہ جیسے عالمی معیار کے ایئرپورٹس کی طرح یہاں بھی انتظام بہتر ہوگا، جس سے ایئرپورٹ ایک منافع بخش مرکز بن سکے گا۔
کا کردار محض مشاورتی نہیں، بلکہ وہ بولی کے عمل کا نگران بھی ہوگا۔ بینک 15 سے 25 سالہ لیز کی شرائط طے کرے گا، سرمایہ کاروں کی جانچ پڑتال کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معاہدہ ریاست کے مفادات کا تحفظ کرے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ADB کی شمولیت کا مقصد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے، جو ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر ایک بڑا چیلنج ہے۔
تاہم، ناقدین محتاط ہیں۔ ماضی میں پاکستان میں نجی اور سرکاری شراکت داری کے کئی منصوبے بیوروکریٹک رکاوٹوں اور شفافیت کے فقدان کے باعث تعطل کا شکار رہے ہیں۔ کے لیے سب سے بڑا امتحان اس عمل کو شفاف رکھنے کے ساتھ ساتھ وقت کی پابندی کو یقینی بنانا ہوگا۔ حکومت غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے اس معاہدے کو جلد مکمل کرنے کی دباؤ میں ہے، لیکن تکنیکی جائزوں میں جلد بازی قانونی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
تبدیلی کا یہ عمل فوری نہیں ہوگا۔ آنے والے مہینوں میں ایئرپورٹ کی موجودہ حالت کا تفصیلی جائزہ لے گا، جس میں انفراسٹرکچر کی مرمت اور نجی آپریٹر کی جانب سے درکار سرمایہ کاری کے شعبوں کی نشاندہی کی جائے گی۔
مشاورتی مینڈیٹ ملنے کے بعد اب یہ عمل شروع ہو چکا ہے جو پاکستان کے اہم ترین ہوائی اڈوں کے انتظام کو بدل سکتا ہے۔ آیا یہ فیصلہ واقعی اسلام آباد ایئرپورٹ کی کایا پلٹ دے گا یا یہ منصوبہ بھی بیوروکریسی کی نذر ہو جائے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاہدے کی شرائط پر کتنی سختی سے عمل درآمد کرواتا ہے۔
