ییل: کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں ایک مال بردار ٹرین کو خوفناک جنگلاتی آگ کے بیچوں بیچ سے گزرنا پڑا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ٹرین کو شعلوں کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ صوبے کے قصبے ’ییل‘ کے قریب پیش آیا، جہاں ٹرین پٹری کے دونوں جانب لگی آگ کے درمیان سے گزری۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ انجن اور بوگیوں پر چنگاریاں گر رہی ہیں جبکہ ٹرین کا عملہ گھنے دھوئیں اور نارنجی شعلوں کے درمیان سے راستہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سی پی کے سی کمپنی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین معمول کے مطابق چل رہی تھی کہ اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق، عملے کے پاس دو ہی راستے تھے: یا تو وہیں رک جاتے اور آگ میں گھر جانے کا خطرہ مول لیتے، یا پھر رفتار برقرار رکھ کر محفوظ علاقے تک پہنچ جاتے۔ ڈرائیور نے دوسرا راستہ چنا۔
خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ٹرین کا عملہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ گیا۔ ٹرین کے کارگو کو بھی کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔
برٹش کولمبیا میں رواں سال جنگلاتی آگ کا سیزن انتہائی شدید رہا ہے۔ ہزاروں مربع کلومیٹر رقبہ جل کر راکھ ہو چکا ہے اور گرمی کی لہر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ریل کے نظام کے لیے یہ آگ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ پٹریاں اکثر ایسے دور دراز علاقوں سے گزرتی ہیں جہاں آگ کا پھیلاؤ بہت تیزی سے ہوتا ہے۔
کینیڈین ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اصل مسئلہ آگ کی وہ غیر متوقع رفتار ہے جس کی وجہ سے چند منٹوں میں راستہ شعلوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے خطے میں مزید شدید گرمی کی پیش گوئی کی ہے۔ فریزر کینین میں لگی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن پٹریوں کے قریب کا یہ جلا ہوا راستہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کینیڈا کے جنگلات میں آگ کا خطرہ تاحال برقرار ہے۔
