ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور گڈز کیریئرز نے حکومت کو حتمی الٹی میٹم دے دیا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اور ٹیکسوں کے بوجھ کو کم نہ کرنے کی صورت میں 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال شروع کر دی جائے گی۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن اور صوبائی ٹرانسپورٹ یونینز نے منگل کی شب اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ ٹرانسپورٹرز کا موقف ہے کہ ایندھن کی بلند قیمتوں، ٹول ٹیکسوں میں اضافے اور گاڑیوں کی رجسٹریشن فیسوں نے کاروبار کو دیوالیہ پن کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اب مزید گاڑیاں سڑکوں پر لانا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔
یونین کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "یہ محض ریلیف کا مطالبہ نہیں، یہ ہمارے بقا کی جنگ ہے۔ اگر حکومت نے 8 اگست تک ٹیکس واپس نہ لیے اور ایندھن کی قیمتیں کم نہ کیں، تو کوئی گاڑی سڑک پر نہیں آئے گی۔ ہم اپنی گاڑیاں شاہراہوں پر کھڑی کر دیں گے۔”
یہ دھمکی ملکی سپلائی چین کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اگر ہڑتال شروع ہوئی تو اشیائے خوردونوش، ایندھن اور صنعتی خام مال کی ترسیل فوری طور پر معطل ہو جائے گی۔ مارکیٹوں میں پہلے سے ہی خدشات پائے جاتے ہیں کہ سپلائی میں کسی بھی قسم کا تعطل خوردہ قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا باعث بنے گا، جس کا بوجھ براہِ راست عام آدمی پر پڑے گا۔
حکومتی سطح پر تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ وزارتِ مواصلات کی جانب سے خاموشی برقرار ہے، جس نے ٹرانسپورٹرز اور عوام کے درمیان بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ٹرانسپورٹ انڈسٹری کی یہ مایوسی نئی نہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایندھن کی قیمتوں اور قومی شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے ٹول پلازوں کے خلاف کئی احتجاج ہو چکے ہیں۔ تاہم، اس بار پہیہ جام کی کال نے ثابت کر دیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز اب روایتی احتجاج سے نکل کر معاشی پہیہ روکنے کے لیے تیار ہیں۔
عام شہری کے لیے یہ صرف ٹرانسپورٹرز اور حکومت کا تنازع نہیں، بلکہ ایک ایسا بحران ہے جو اشیاء کی قلت اور مہنگائی کی نئی لہر لا سکتا ہے۔ اگر حکومت نے اگلے چند روز میں مذاکرات کا دروازہ نہ کھولا، تو جمعرات کی صبح ملک کی اہم شاہراہیں مکمل طور پر بند ہو سکتی ہیں۔
