سائنسدانوں نے عطارد کے بارے میں اہم نئی معلومات حاصل کی ہیں، جو شمسی نظام کا سب سے چھوٹا اور سورج کے سب سے قریب واقع سیارہ ہے۔ تازہ تحقیق نے اس کی تشکیل، ارضیاتی تاریخ، مقناطیسی میدان اور انتہائی سخت ماحول کے بارے میں نئے راز آشکار کیے ہیں، جس سے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ یہ چٹانی سیارہ اربوں سال میں کس طرح ارتقا پذیر ہوا۔
محققین نے ناسا کے میسنجر مشن اور جاری بیپی کولمبو خلائی مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے عطارد کی سطح، اندرونی ساخت اور مقناطیسی میدان کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ نتائج سے اس سیارے کی کیمیائی ساخت اور اس پر اثر انداز ہونے والے قدیم ارضیاتی عمل کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔
عطارد کا قطر تقریباً 4,880 کلومیٹر (3,032 میل) ہے، جس کی وجہ سے یہ شمسی نظام کا سب سے چھوٹا سیارہ ہے۔ اس کے باوجود اس کے اندر ایک غیر معمولی طور پر بہت بڑا لوہے کا مرکز موجود ہے، جو سیارے کے بیشتر حصے پر مشتمل ہے۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہی عظیم آہنی مرکز عطارد کے طاقتور مقناطیسی میدان کی بنیادی وجہ ہے۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عطارد کی سطح آج بھی آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہی ہے۔ اس کی سطح پر موجود بڑی چٹانی ڈھلوانیں، جنہیں لوبیٹ اسکارپس کہا جاتا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سیارہ وقت کے ساتھ اپنے اندرونی حصے کے ٹھنڈا ہونے اور سکڑنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔
سائنسدانوں نے عطارد کی بے شمار شہابی گڑھوں سے بھری سطح کا بھی مطالعہ کیا، جو اربوں سال پرانے سیارچوں اور دمدار ستاروں کے تصادم کا ریکارڈ محفوظ کیے ہوئے ہے۔ چونکہ عطارد کے پاس زمین جیسا گھنا فضائی ماحول موجود نہیں، اس لیے یہ قدیم گڑھے آج بھی تقریباً اپنی اصل حالت میں محفوظ ہیں۔
ماہرین اب بھی عطارد کے قطبی علاقوں میں موجود ہمیشہ سائے میں رہنے والے گڑھوں میں پانی کی برف کی موجودگی پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ دن کے وقت عطارد کی سطح کا درجۂ حرارت 430 ڈگری سینٹی گریڈ (806 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے، لیکن قطبین کے یہ تاریک علاقے اتنے سرد رہتے ہیں کہ وہاں برف محفوظ رہ سکتی ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عطارد کا مطالعہ نہ صرف اس سیارے بلکہ زمین، زہرہ اور مریخ جیسے دوسرے چٹانی سیاروں کی تشکیل اور ارتقا کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ سورج کے انتہائی قریب موجود سیارے شدید گرمی اور تابکاری کے باوجود کس طرح وجود میں آئے اور وقت کے ساتھ کیسے تبدیل ہوئے۔
ماہرین کو امید ہے کہ یورپی خلائی ایجنسی اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کے مشترکہ بیپی کولمبو مشن سے مستقبل میں عطارد کی ارضیاتی ساخت، مقناطیسی میدان اور اندرونی حصے کے بارے میں مزید حیرت انگیز راز سامنے آئیں گے۔
