پاکستان بھر میں ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنی مجوزہ ملک گیر ہڑتال منگل کی رات باضابطہ طور پر مؤخر کر دی ہے۔
اس فیصلے نے ملک بھر کے شہریوں کو اس شدید بے یقینی سے نکال دیا ہے جو پیر سے پیدا ہو چکی تھی۔ منگل کی شام تک کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں پٹرول پمپس پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگنا شروع ہو گئی تھیں، کیونکہ عوام ایندھن کی ممکنہ قلت کے پیش نظر پہلے ہی ٹینک فل کروانے میں مصروف تھے۔
یہ پیش رفت پیٹرولیم ڈیلرز کی قیادت اور وزیرِ پیٹرولیم کے درمیان ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آئی۔ اگرچہ حکومت نے ابھی تک کوئی باضابطہ پالیسی دستاویز جاری نہیں کی، تاہم ڈیلرز کے نمائندوں نے تصدیق کی ہے کہ وزارت نے ان کے بنیادی مطالبات پر تحریری یقین دہانی کرائی ہے۔
اس تنازع کی جڑ ڈیلرز کا منافع بڑھانے کا مطالبہ تھا۔ ڈیلرز کا موقف ہے کہ بجلی کے بھاری بلوں اور آپریٹنگ اخراجات میں اضافے کے بعد موجودہ کمیشن پر کاروبار کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے فی لیٹر کمیشن میں نمایاں اضافہ نہ کیا تو جمعرات سے ملک بھر میں پٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔
ملاقات کے بعد پی پی ڈی اے کے ترجمان نے مختصر گفتگو میں کہا کہ "ہمیں ٹھوس یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہمارے مطالبات پر عمل درآمد کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ہم عوام کو مزید پریشان نہیں کرنا چاہتے، لیکن ہم نقصان میں کاروبار جاری رکھنے کے متحمل بھی نہیں ہو سکتے۔”
حکومت، جو ملک گیر ایندھن کی قلت سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے بچنا چاہتی تھی، نے گزشتہ تنازعات کے برعکس مفاہمانہ رویہ اپنایا۔ وزارت کے حکام نے مہنگائی کے باعث ڈیلرز کے خدشات کو تسلیم تو کیا، تاہم کمیشن میں اضافے کی مخصوص شرح کا اعلان کرنے کے بجائے اسے آئندہ مالیاتی جائزے تک مؤخر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
فی الحال پٹرول پمپس کھلے رہیں گے۔ تاہم، یہ سمجھوتہ نازک ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے کیا گیا وعدہ پورا نہ ہوا یا منافع میں اضافے کی تجویز ڈیلرز کی توقعات سے کم رہی، تو ملک گیر ہڑتال کا خطرہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔
عام شہری کے لیے فوری بحران ٹل چکا ہے، لیکن ڈیلرز اور حکومت کے درمیان پایا جانے والا یہ تناؤ ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی اتنا ہی مشکل ثابت ہوگا۔
