سندھ حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ مزید ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے تحت عوامی اجتماعات، احتجاجی مظاہروں اور اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام "سیکیورٹی خدشات” کے پیشِ نظر اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
نئے حکم نامے کے تحت کسی بھی عوامی مقام پر چار سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہوگی۔ اگرچہ حکومتی ذرائع اسے ایک معمول کا انتظامی فیصلہ قرار دے رہے ہیں، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اسے سیاسی اختلاف کو دبانے اور احتجاج کو روکنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔
اپوزیشن کے ایک ترجمان نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ "یہ ہمارے پرامن اجتماع کے حق پر ایک پیشگی حملہ ہے۔ حکومت سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر عوامی شکایات کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔”
یہ پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی ہے جب صوبہ مہنگائی کی بلند شرح اور مقامی حکومتوں کے اختیارات جیسے معاملات پر شدید بحث و تکرار کی زد میں ہے۔ دفعہ 144 کے نفاذ سے پولیس کو وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جس کے تحت وہ کسی بھی عوامی مجمع کو منتشر کرنے اور مظاہرین کو گرفتار کرنے کی مجاز ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کا بار بار نفاذ اب ایک معمول بن چکا ہے، حالانکہ قانوناً یہ ایک ہنگامی اور عارضی ٹول ہے۔ کراچی کے ایک آئینی ماہر نے نشاندہی کی کہ "قانون کو سیاسی تناؤ ختم کرنے کا مستقل حل سمجھ لیا گیا ہے۔ جب آپ عوامی اظہارِ رائے کی جگہ ختم کرتے ہیں، تو آپ ناراضگی کو ختم نہیں کرتے، بلکہ اسے زیرِ زمین دھکیل دیتے ہیں۔”
شہریوں کے لیے اس پابندی کا مطلب یہ ہے کہ تجارتی مراکز اور اہم مقامات پر ہونے والے چھوٹے موٹے احتجاج اور مظاہرے اب قانونی طور پر جرم ہیں۔ اگرچہ حکومتی حلقے اسے امن کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، لیکن اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ انتظامیہ کسی بھی ممکنہ سیاسی تصادم کو روکنے کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں۔
یہ پابندی رواں ماہ کے آخر تک نافذ رہے گی، اور محکمہ داخلہ کی جانب سے اسے وقت سے پہلے اٹھانے کے حوالے سے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔
