کراچی — میر رضا علی کے قتل کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام نے ابتدائی مفروضوں کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کو ذاتی تنازعات اور مالی لین دین کے زاویے سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔
ضلعی پولیس کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹیم کی توجہ اب مقتول کے قریبی حلقوں پر مرکوز ہے۔ منگل کے روز سامنے آنے والی ڈیجیٹل فرانزک رپورٹ نے کیس کو نیا رخ دیا ہے۔ مقتول کے ذاتی فون سے ملنے والے انکرپٹڈ پیغامات سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ شہر کے مہنگے علاقوں میں جائیداد کے کسی بڑے تنازعے میں الجھے ہوئے تھے۔
کیس پر کام کرنے والے ایک اعلیٰ تفتیشی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "اب ہم اسے محض سڑک پر ہونے والی ڈکیتی کا واقعہ نہیں سمجھ رہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی، جس میں مقتول کے قریبی افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔”
میر رضا علی کو گزشتہ ہفتے رات کے وقت اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنی گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔ پولیس نے پہلے اسے ڈکیتی کی واردات قرار دیا تھا، تاہم جائے وقوعہ سے قیمتی سامان کی عدم موجودگی نے تفتیش کاروں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔
مقامی شہری تنظیموں نے اس معاملے پر پولیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ مقتول کے اہل خانہ نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقامی پولیس پر بیرونی دباؤ ہو سکتا ہے۔
پولیس حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی گئی ہے جس میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ڈیجیٹل شواہد کا گہرائی سے جائزہ لیا جا سکے۔
بدھ کی سہ پہر تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔ پولیس مقتول کے راستے میں آنے والے نجی سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں ایک سلور کار کو جائے وقوعہ کے قریب مشکوک حالت میں دیکھا گیا تھا۔
تحقیقات اب ذاتی انتقام اور کاروباری تنازعات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ کیا پولیس ٹاسک فورس اصل ملزمان تک پہنچ پائے گی یا یہ کیس بھی شہر کی ان ہائی پروفائل فائلز میں شامل ہو جائے گا جو تاحال حل طلب ہیں۔
