ٹریفک پولیس پیر سے شہر بھر میں بغیر ٹوکن، زائد المیعاد رجسٹریشن اور غیر قانونی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رہی ہے۔ آپریشن کے دوران ٹریفک اہلکاروں کو موقع پر ہی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں ضبط کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
یہ کارروائی ٹریفک قوانین کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں اور گاڑیوں کے واجب الادا ٹیکسوں کے بھاری انبار کے بعد کی جا رہی ہے۔ شہر کی مرکزی شاہراہوں اور اہم چوراہوں پر خصوصی ناکے قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ ان گاڑیوں کو پکڑا جا سکے جنہوں نے دستاویزات کی تجدید کے لیے دی گئی ڈیڈ لائنز کو نظر انداز کیا۔
ایک اعلیٰ ٹریفک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہمارا مقصد شہریوں کو ہراساں کرنا نہیں، لیکن رجسٹریشن قوانین کی مسلسل خلاف ورزی اب ناقابل برداشت حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر آپ کے کاغذات مکمل نہیں ہیں، تو گاڑی تھانے یا امپاؤنڈ لاٹ میں کھڑی ہوگی۔”
بغیر درست رجسٹریشن پکڑے جانے والے مالکان کو فوری ضبطگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گاڑی چھڑوانے کے لیے مالکان کو ایکسائز آفس میں ٹیکس کی ادائیگی اور درست دستاویزات پیش کرنا ہوں گی۔ جرمانے اور ٹیکس کی کٹوتی کے علاوہ مالکان کو گاڑی امپاؤنڈ ہونے کے اخراجات بھی ادا کرنا ہوں گے۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن 24 گھنٹے جاری رہے گا اور تمام اضلاع میں اس کا دائرہ کار ہوگا۔ موبائل سکواڈز کو ڈیجیٹل سکینرز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ موقع پر ہی ریکارڈ کی تصدیق کی جا سکے، جس سے سڑک پر بحث و تکرار یا دستی تصدیق میں تاخیر کی گنجائش ختم ہو جائے گی۔
یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے محصولات کے اہداف پورے نہ ہونے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ گزشتہ سہ ماہی کے دوران گاڑیوں کی رجسٹریشن سے حاصل ہونے والی آمدنی میں تقریباً 15 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے بعد محکمہ خزانہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی کرنے کے احکامات جاری کیے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اصل دستاویزات یا محکمہ ایکسائز سے تصدیق شدہ ڈیجیٹل کاپیاں لازمی رکھیں۔ جن لوگوں نے ابھی تک اپنے ریکارڈ اپ ڈیٹ نہیں کروائے، ان کے لیے رعایت کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ گاڑی ضبط ہونے کی صورت میں بازیابی کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے، جس سے مالکان کو کئی روز تک اپنی سواری سے محروم رہنا پڑ سکتا ہے۔
