ویلز: سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس موسمِ گرما میں ویلز کے مختلف علاقوں میں لگنے والی شدید جنگلاتی آگ نے ایسی “تباہ کن” ماحولیاتی نقصان پہنچایا ہے جو فوری طور پر نظر نہیں آتا۔
آگ نے جہاں درختوں، پودوں اور قدرتی رہائش گاہوں کو نقصان پہنچایا، وہیں اس کے اثرات مٹی، جنگلی حیات اور ماحول پر کئی سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
نقصان صرف جلے ہوئے علاقوں تک محدود نہیں
جنگلاتی آگ کا اندازہ عام طور پر جلے ہوئے رقبے یا تباہ ہونے والی عمارتوں سے لگایا جاتا ہے، لیکن سائنسدانوں کے مطابق اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ گہرا ہوسکتا ہے۔
شدید آگ مٹی کی ساخت کو متاثر کرتی ہے، بیجوں اور اہم جرثوموں کو ختم کرسکتی ہے اور زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم کردیتی ہے۔ پودوں کے ختم ہونے کے بعد زمین کٹاؤ، سیلاب اور دوبارہ آگ لگنے کے خطرے سے بھی دوچار ہوجاتی ہے۔
قدرتی پودوں کی تباہی سے کیڑے مکوڑوں، پرندوں اور چھوٹے جانوروں کے لیے خوراک اور پناہ گاہیں بھی کم ہوجاتی ہیں۔ بعض علاقوں کو بحال ہونے میں کئی سال یا کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے آگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جنگلاتی آگ کے لیے حالات کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، خشک زمین اور طویل خشک سالی آگ کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے کئی علاقوں میں شدید گرمی اور جنگلاتی آگ کا سلسلہ جاری ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق جنگلاتی دھواں اور ہیٹ ویوز فضائی آلودگی میں بہتری کی کوششوں کو متاثر کررہے ہیں اور انسانی صحت کے لیے نئے خطرات پیدا کررہے ہیں۔
جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو خطرہ
ویلز میں لگنے والی آگ کے بعد ماہرین کو جنگلی حیات اور قدرتی رہائش گاہوں کے مستقبل پر تشویش ہے۔
آگ سے متاثرہ علاقوں میں جانور خوراک اور پناہ کی تلاش میں دوسرے علاقوں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ کچھ جانور آگ سے بچ بھی جائیں تو بعد میں ان کے لیے خوراک، افزائشِ نسل اور محفوظ رہائش کی کمی پیدا ہوجاتی ہے۔
پودوں کے ختم ہونے سے دریاؤں اور ندی نالوں کا پانی بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ بارش کے دوران راکھ اور ڈھیلی مٹی پانی میں شامل ہوکر آبی حیات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
مٹی اور کاربن کو نقصان
جنگلاتی آگ پودوں اور مٹی میں محفوظ کاربن کو بھی فضا میں خارج کرتی ہے۔ بعض علاقوں میں آگ زمین کے اندر موجود خشک نامیاتی مواد یا پیٹ میں بھی پھیل سکتی ہے۔
ایسی زیرِ زمین آگ ظاہری شعلے ختم ہونے کے بعد بھی دھیمی رفتار سے جلتی رہ سکتی ہے۔ اس سے مزید کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوتی ہے اور زمین کی بحالی مشکل ہوجاتی ہے۔
انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ کی نگرانی کے دوران بھی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیرِ زمین پیٹ فائرز کی وجہ سے اخراج کی اصل مقدار اندازوں سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے صرف نئے پودے اگانا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے کئی اقدامات ضروری ہوں گے، جن میں شامل ہیں:
-
باقی بچ جانے والے قدرتی علاقوں کا تحفظ۔
-
مٹی کے کٹاؤ کو روکنا۔
-
مقامی پودوں کی دوبارہ افزائش۔
-
پانی کے معیار کی نگرانی۔
-
جنگلی حیات کی بحالی میں مدد۔
-
دوبارہ آگ لگنے کے خطرے میں کمی۔
-
آگ کی بروقت نگرانی اور وارننگ کے نظام کو بہتر بنانا۔
ماہرین یہ بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کون سے علاقے خود بحال ہوسکتے ہیں اور کن علاقوں میں انسانی مداخلت ضروری ہوگی۔
مستقبل کے لیے اہم وارننگ
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگلاتی آگ کو موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسم کے بڑھتے ہوئے خطرات کے حوالے سے ایک اہم وارننگ سمجھنا چاہیے۔
اگرچہ آگ کے شعلے چند دنوں میں بجھ سکتے ہیں، لیکن مٹی، جنگلی حیات، قدرتی رہائش گاہوں اور کاربن کے ذخائر کو پہنچنے والا نقصان کئی سال تک برقرار رہ سکتا ہے۔
جنگلاتی
