بھارت کے ایک دور افتادہ گاؤں میں 5 جی نیٹ ورک کی مسلسل بندش سے تنگ آکر مشتعل دیہاتیوں نے ٹیلی کام کمپنی کے ٹیکنیشن کو یرغمال بنا لیا اور اسے موبائل ٹاور کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیا۔
یہ واقعہ ایک ایسے دیہی علاقے میں پیش آیا جہاں ڈیجیٹل رابطے اب روزگار اور تعلیم کا واحد ذریعہ ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے گاؤں میں نیٹ ورک کے سگنلز مسلسل غائب تھے، جس کے باعث نہ صرف مواصلاتی نظام درہم برہم ہوا بلکہ موبائل بینکنگ اور آن لائن تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل ہو کر رہ گئیں۔ جب کمپنی کا ٹیکنیشن معمول کے معائنے کے لیے وہاں پہنچا تو دیہاتیوں نے اسے گھیر لیا اور نیٹ ورک بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
دیہاتیوں نے صرف زبانی احتجاج پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ٹیکنیشن کو زبردستی ٹاور کے دھاتی ڈھانچے سے باندھ دیا۔
ایک مقامی رہائشی نے میڈیا کو بتایا، "ہم کھوکھلے وعدے سن سن کر تھک چکے تھے۔ ہر بار شکایت کرنے پر وہ اسے تکنیکی خرابی قرار دے کر ٹال دیتے ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ انہیں بھی پتہ چلے کہ رابطے کٹ جانے پر کیسا محسوس ہوتا ہے۔”
ٹیکنیشن کئی گھنٹے شدید گرمی میں ٹاور کے ساتھ بندھا رہا، جبکہ گاؤں کے عمائدین اور کمپنی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات جاری رہے۔ آخر کار کمپنی نے ایک سینئر انجینئر کو موقع پر بھیجا جس نے نیٹ ورک کو مستحکم کرنے کے لیے ہارڈویئر اپ گریڈ کرنے کا تحریری وعدہ کیا۔ اس یقین دہانی کے بعد ہی دیہاتیوں نے ٹیکنیشن کو آزاد کیا۔
واقعے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی۔ حکام نے کمپنی کی جانب سے شکایت درج کرنے کی تصدیق تو کی، لیکن ساتھ ہی اس بڑھتے ہوئے عوامی غصے کو بھی تسلیم کیا جو اس اقدام کی وجہ بنا۔
پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ "یہاں کے لوگ فصلوں کی فروخت سے لے کر اسکول کے امتحانات تک، ہر چیز کے لیے ان ٹاورز پر انحصار کرتے ہیں۔ لوگوں کا صبر اب جواب دے چکا ہے۔”
ٹیلی کام کمپنی نے ایک مختصر بیان میں "غیر متوقع تکنیکی رکاوٹوں” کو سروس کی بندش کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، تاہم ٹاور پر سیکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی پر کمپنی نے تاحال کوئی واضح موقف نہیں دیا۔ فی الحال گاؤں میں سگنلز بحال ہو چکے ہیں، لیکن یہ واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بلند و بانگ دعووں اور دور دراز علاقوں میں ان کی عملی دیکھ بھال کے درمیان خلیج کتنی گہری ہو چکی ہے۔
