وفاقی حکومت ایک بار پھر پیٹرول ریلیف پروگرام شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ حکام ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے نچلے طبقے کو بچانے کے لیے ایک نیا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔
یہ اقدام سابقہ حکومت کے متعارف کردہ "کراس سبسڈی” ماڈل کی ممکنہ واپسی کا اشارہ ہے۔ اس فارمولے کے تحت، بڑی گاڑیوں کے مالکان سے اضافی قیمت وصول کر کے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کو براہِ راست رعایت دی جاتی تھی۔
وزارتِ خزانہ کے حکام اس وقت اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا قومی خزانہ آئی ایم ایف کی شرائط کی خلاف ورزی کیے بغیر اس بوجھ کو اٹھا سکتا ہے یا نہیں۔ جب گزشتہ بار اس پروگرام کی تجویز دی گئی تھی، تو عالمی مالیاتی فنڈ نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے بجٹ خسارہ بے قابو ہو سکتا ہے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "حکومت ایسا طریقہ کار تلاش کر رہی ہے جو بجٹ کے لیے تباہ کن نہ ہو۔ اصل مسئلہ صرف فنڈنگ کا نہیں، بلکہ ایندھن کی چوری روکنے اور سبسڈی کا فائدہ صرف مستحقین تک پہنچانے کا ہے۔”
ملک میں معاشی صورتحال پہلے ہی نازک ہے۔ افراطِ زر عوامی قوتِ خرید کو تیزی سے ختم کر رہا ہے، اور پیٹرول کی قیمتیں براہِ راست ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ حکومتی اتحاد کے لیے یہ ریلیف پیکج سیاسی طور پر ایک وقتی سہارا تو بن سکتا ہے، لیکن ماہرینِ معاشیات اسے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستحقین کی نشاندہی کرنا اب بھی ایک انتظامی چیلنج ہے۔ ماضی میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کو ایندھن کی کھپت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن وہ تجربہ عملی طور پر پیچیدہ ثابت ہوا تھا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کو ایندھن کی اسمگلنگ کا بھی خدشہ ہے۔ جب سبسڈی والے اور عام مارکیٹ کے پیٹرول میں نمایاں فرق ہوتا ہے، تو ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی ڈائیورژن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس سے اکثر پیٹرول پمپس پر مصنوعی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ایک مشیر نے کہا، "اگر حکومت اس پر کام کرنا چاہتی ہے تو ڈیزائن کو ہر صورت فول پروف ہونا چاہیے۔ اگر یہ پچھلی کوششوں کا اعادہ ہوا، تو یہ پروگرام چند مہینوں میں ہی اپنی ناکامی کا شکار ہو جائے گا۔”
فی الحال یہ تجویز ابتدائی مراحل میں ہے۔ حکومت فوری عوامی ریلیف کو ترجیح دیتی ہے یا آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتی ہے، اس کا فیصلہ آنے والے چند ہفتوں میں واضح ہو جائے گا۔
