مظفر آباد — آزاد کشمیر اور مقبوضہ وادی میں آج کشمیری عوام ‘یومِ الحاقِ پاکستان’ منا رہے ہیں۔ یہ دن 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے منظور کی گئی اس تاریخی قرارداد کی یاد دلاتا ہے جس میں کشمیری قیادت نے ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا۔
سیاسی کارکنوں کے لیے یہ دن محض ایک تقویمی تاریخ نہیں، بلکہ ایک سیاسی بیانیے کی بنیاد ہے۔ اس سال ریلیاں اور مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اگست 2019 کے بعد سے خطے کی قانونی اور آبادیاتی حیثیت میں کی گئی تبدیلیوں پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
مظفر آباد میں صبح سویرے سے ہی ریلیاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی، جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈز تھے جن پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت کا مطالبہ درج تھا۔ شہر کی فضا نعروں سے گونجتی رہی، جو سات دہائیوں سے جاری سفارتی تعطل اور حل طلب تنازعے پر مقامی آبادی کی مایوسی کی عکاس ہے۔
1947 کی قرارداد آج بھی کشمیریوں کے لیے قانونی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ اس وقت کے کشمیری رہنماؤں کا فیصلہ اکثریت کی امنگوں کا ترجمان تھا، اور وہ اصرار کرتے ہیں کہ وادی میں بھاری فوجی موجودگی کے باوجود یہ جذبات ماند نہیں پڑے۔
مظفر آباد میں ایک ریلی کے دوران مقامی سیاسی رہنما نے کہا، "ہم محض کیلنڈر کی تاریخ نہیں دہرا رہے، ہم دنیا کو یاد دلا رہے ہیں کہ ہمارا بنیادی فیصلہ آج بھی اٹل ہے، چاہے نئی دہلی سے کوئی بھی پالیسی مسلط کی جائے۔”
انتظامیہ نے حساس علاقوں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں، تاہم تقریبات کا محور عوامی اجتماعات اور تقاریر ہیں۔ آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے سیمینارز اور تصویری نمائشوں کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ تحریک کی تاریخ کو نئی نسل تک پہنچایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دن داخلی اتحاد کو تو مضبوط کرتا ہے، لیکن خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست ایک بڑا چیلنج ہے۔ عالمی برادری کی توجہ کشمیر کے بجائے دیگر عالمی تنازعات کی طرف مڑنے سے مقامی سطح پر تنہائی کا احساس بڑھا ہے۔
سفارتی محاذ پر پیش رفت نہ ہونے کے باوجود، مظفر آباد کی سڑکوں پر موجود ہجوم بتاتا ہے کہ تحریکِ آزادی کا بیانیہ اب بھی توانا ہے۔ آج جمع ہونے والوں کے لیے سوال راستے کی مشکلات کا نہیں، بلکہ اس مقصد کو زندہ رکھنے کا ہے جسے وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا اب مزید نظر انداز نہیں کر سکتی۔
