کورنوال کی سیل سینکچری میں موجود پینگوئنز کے لیے ایک بار پھر مقامی سارڈین مچھلی مینو میں شامل ہو گئی ہے۔ سپلائی چین میں تعطل کے باعث انتظامیہ کو کئی ہفتوں تک یہ مچھلی سکاٹ لینڈ سے منگوانی پڑ رہی تھی، جس سے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا تھا۔
گوییک میں واقع اس پناہ گاہ میں ہمبولٹ پینگوئنز کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ ان پرندوں کی خوراک کا بنیادی حصہ یہی مقامی سارڈینز ہیں، جن میں موجود چکنائی ان کی صحت اور پروں کی چمک کے لیے ناگزیر ہے۔ مچھلی کی قلت کے دنوں میں عملے کو متبادل خوراک دینی پڑی، لیکن پرندوں نے اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی۔
ایک سینئر کیپر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "یہ پرندے کافی ضدی ہیں۔ آپ ان کی پسندیدہ خوراک بدل کر یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ خاموشی سے اسے کھا لیں گے۔”
مقامی ماہی گیروں کے مطابق، سمندری درجہ حرارت میں تبدیلی اور مچھلیوں کے ہجرت کے بدلتے راستوں کی وجہ سے سارڈینز کے جھنڈ دوبارہ ساحلی حدود میں واپس آ گئے ہیں۔ مقامی سپلائی کی بحالی سے نہ صرف پینگوئنز کی خوراک کا معیار بہتر ہوا ہے بلکہ سینکچری کے مالی بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
سیراب ہونے والی اس پیش رفت کے بعد، انتظامیہ اب طویل مدتی ذخیرہ اندوزی کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ماہی گیری کے موسم میں اتار چڑھاؤ آنے کی صورت میں پینگوئنز کو کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ فی الحال، پینگوئنز کا معمول کا فیڈنگ شیڈول بحال ہو چکا ہے اور عملہ مقامی مچھلی کی دستیابی پر مطمئن ہے۔
