کروشیا کے ساحلی علاقے میں منگل کی شام بھڑکنے والی جنگل کی آگ نے تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ آگ کی شدت کے باعث سینکڑوں مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کو اپنے گھر اور ہوٹل چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنی پڑی۔
آگ کا آغاز شبیینک شہر کے قریب ہوا، جہاں شدید گرمی اور تیز ہواؤں نے معمولی جھاڑیوں میں لگی آگ کو دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے الاؤ میں بدل دیا۔ شام تک آگ شہر کے مضافات تک پہنچ گئی، جس کے نتیجے میں کئی لوگ اپنی گاڑیوں میں پھنس گئے، جبکہ دیگر جان بچانے کے لیے ساحل کی جانب بھاگے۔
مقامی ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ شہر کے بیرونی علاقے سے ایک شخص کی لاش ملی ہے جو ممکنہ طور پر اپنی گاڑی میں پھنس گیا تھا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق اب تک 30 سے زائد افراد کو طبی امداد دی جا چکی ہے، جن میں دھوئیں کے باعث دم گھٹنے اور معمولی جھلسنے والے افراد شامل ہیں۔ ریجنل میڈیکل ڈائریکٹر نے صورتحال کو "انتہائی افراتفری” سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی گاڑیوں کو بند سڑکوں کے باعث مریضوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ آگ کی رفتار اتنی تیز تھی کہ سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ بجلی کی تاریں گرنے سے ساحلی پٹی کا بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا، جس سے امدادی کارروائیوں میں مزید رکاوٹ پیدا ہوئی۔
وزیراعظم آندرے پلینکووچ بدھ کی صبح متاثرہ علاقے میں پہنچے اور مقامی فائر فائٹرز کی مدد کے لیے وفاقی سطح پر وسائل فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم، انہیں مقامی لوگوں کے شدید غصے کا سامنا بھی کرنا پڑا، جنہوں نے انتباہی سائرن بروقت نہ بجانے اور ہنگامی حالات کے لیے ناقص تیاری پر سوالات اٹھائے۔
کروشیا کی فائر فائٹنگ کمانڈ نے آگ بجھانے والے طیارے بھی طلب کر لیے ہیں، لیکن تیز ہواؤں کے باعث فضائی آپریشن میں وقفے وقفے سے تعطل آ رہا ہے۔ محکمہ موسمیات نے گرمی کی لہر میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس کے پیشِ نظر حکومت نے متاثرہ کاؤنٹی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
اب جبکہ سورج طلوع ہو چکا ہے، امدادی ٹیموں کی توجہ آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے بجائے ان مقامات کو ٹھنڈا کرنے پر مرکوز ہے جہاں اب بھی شعلے بھڑک رہے ہیں۔ ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہیں، اور جن لوگوں کے گھر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں، ان کے لیے بحالی کا عمل ایک طویل اور مشکل سفر دکھائی دیتا ہے۔
