لاہور — پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں مویشیوں کے علاج کے لیے موبائل ویٹرنری کلینکس کا نیٹ ورک فعال کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دیہی علاقوں کے ان کسانوں تک بروقت طبی امداد پہنچانا ہے جو اب تک بنیادی سہولیات سے محروم تھے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس سروس کا افتتاح کرتے ہوئے اسے لائیو اسٹاک سیکٹر کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ راجن پور، ڈی جی خان اور دیگر پسماندہ اضلاع میں کسانوں کو اپنے بیمار مویشیوں کو شہروں کے ہسپتالوں تک پہنچانے میں گھنٹوں لگ جاتے تھے، جس کے دوران اکثر جانور جان کی بازی ہار جاتے تھے۔
یہ موبائل کلینکس دراصل پہیوں پر چلتے ہسپتال ہیں۔ ہر گاڑی میں الٹراساؤنڈ مشینیں، تشخیصی آلات، اور ویکسین کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ عملے میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر اور ایک ٹیکنیشن شامل ہیں، جو موقع پر ہی علاج کی سہولت فراہم کرنے کے پابند ہیں۔
حکومت نے اس سروس کے لیے ایک ہیلپ لائن بھی متعارف کرائی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہنگامی صورتحال میں ٹیم دو گھنٹے کے اندر کسان کے دروازے پر پہنچ جائے گی۔ تاہم، صوبے کے خستہ حال دیہی راستے اور سڑکوں کا ناقص انفراسٹرکچر اس ہدف کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
پنجاب کی دیہی معیشت کا دارومدار لائیو اسٹاک پر ہے۔ لاکھوں خاندانوں کا روزگار مویشیوں سے وابستہ ہے، اور ایک جانور کی بیماری پورے گھرانے کی معاشی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے افتتاحی تقریب کے موقع پر کہا کہ "ہم صرف جانوروں کا علاج نہیں کر رہے، بلکہ ان خاندانوں کی معاشی زندگی کا تحفظ یقینی بنا رہے ہیں جو اس صوبے کی خوراک کا ذریعہ ہیں۔”
اس منصوبے کے لیے بھاری بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس میں ایندھن، ادویات اور عملے کی تنخواہیں شامل ہیں۔ ماضی میں صحت کے شعبے میں شروع کیے گئے ایسے موبائل یونٹس اکثر دیکھ بھال کے فقدان اور فنڈز کی کمی کے باعث ناکام ہوتے رہے ہیں۔
فی الحال یہ فلیٹ اہم زرعی مراکز میں کام شروع کر چکا ہے۔ اب اصل امتحان اس سروس کی پائیداری کا ہے۔ کیا یہ گاڑیاں مون سون کے دوران دیہی علاقوں کے کچے راستوں پر سفر کر سکیں گی؟ یا یہ منصوبہ محض چند ماہ کی رونق ثابت ہوگا؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں کسانوں کے ردعمل سے واضح ہو جائے گا۔
