شہروں کا موجودہ انفراسٹرکچر پچھلی صدی کے موسموں کے حساب سے تعمیر کیا گیا تھا، نہ کہ اس بدلتی ہوئی اور شدید آب و ہوا کے لیے جس کا سامنا ہمیں آج ہے۔ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہریں اور اچانک آنے والے سیلاب ثابت کر رہے ہیں کہ بلدیاتی منصوبہ بندی اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
شہری منصوبہ سازوں کا کہنا ہے کہ "لچک”کا لفظ اب صرف ایک سیاسی نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔ شہروں کے نکاسی آب کے نظام، بجلی کے گرڈ اور ٹرانسپورٹ کے ڈھانچے اب بھی انہی پرانے ماڈلز پر چل رہے ہیں جو اب غیر موثر ہو چکے ہیں۔ جب سڑکیں دریا بنتی ہیں تو یہ صرف ٹریفک کا مسئلہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہسپتالوں تک رسائی بند ہونے اور بجلی کے نظام کے بیٹھ جانے کا باعث بنتا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ شہر اب بھی خوبصورتی بڑھانے والے منصوبوں پر زیادہ خرچ کر رہے ہیں، بجائے اس کے کہ زیرِ زمین نکاسی آب اور گرڈ کو مضبوط کیا جائے۔ ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "آپ شہر میں ہزاروں درخت لگا لیں، لیکن اگر 45 ڈگری سینٹی گریڈ پر آپ کا بجلی کا نظام جواب دے جائے، تو آپ نے کسی بحران کی تیاری نہیں کی ہے۔”
اس لاپرواہی کا خمیازہ عام شہری بھگت رہا ہے۔ میونسپل ادارے ہنگامی صورتحال میں امدادی کاموں پر اربوں خرچ کرتے ہیں، لیکن انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، اگر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر ایک روپیہ خرچ کیا جائے تو تباہی کے بعد بحالی پر ہونے والے چھ روپے بچائے جا سکتے ہیں۔ تاہم، سیاسی حلقوں میں طویل مدتی منصوبوں کے بجائے فوری دکھنے والے کاموں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
اب انشورنس کمپنیاں بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ زیادہ خطرے والے علاقوں میں پریمیم کی شرح اس قدر بڑھ گئی ہے کہ عام آدمی کے لیے وہاں رہائش رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ اسے "کلائمیٹ جینٹریفیکیشن” کہا جا رہا ہے، جہاں شہروں کی ناکام منصوبہ بندی کی قیمت غریب طبقہ ادا کر رہا ہے۔
کسی بھی شہر کی تیاری کا امتحان اس کے کاغذوں پر موجود پلان نہیں، بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے کا کمزور ترین حصہ ہے۔ جب تک بلدیاتی بجٹ سطحی دکھاوے سے نکل کر گراؤنڈ لیول کی مضبوطی پر خرچ نہیں ہوگا، تب تک اگلی بڑی قدرتی آفت محض موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ انتظامی ناکامی ثابت ہوگی۔
