حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت تمام قسم کے عوامی اجتماعات، ریلیوں اور دھرنوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے منگل کی شب جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں سیکیورٹی خدشات اور سیاسی کشیدگی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کو اس اقدام کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔
اس پابندی کے بعد ضلعی انتظامیہ کو چار سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر کارروائی کا اختیار حاصل ہو گیا ہے۔ پولیس نے لاہور، راولپنڈی اور دیگر اہم شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکے لگانا شروع کر دیے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سیاسی گروہوں کی جانب سے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے ناگزیر تھا۔ انٹیلی جنس رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کچھ حلقے اہم شاہراہوں کو بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے معمول کی زندگی اور ہنگامی خدمات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے اس اقدام کو تنقید دبانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت "سیکیورٹی” کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ سیاسی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ عوامی اجتماعات پر پابندی سے اپوزیشن کی کارکنوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 صوبائی حکومت کے پاس ایک طویل عرصے سے موجود قانونی ہتھیار ہے۔ یہ ضلعی حکام کو ایسی کسی بھی سرگرمی کو روکنے کا اختیار دیتی ہے جو عوامی پریشانی یا جان و مال کے لیے خطرہ بن سکے۔ اگرچہ ہنگامہ خیزی کے دوران اس کا استعمال عام ہے، لیکن انسانی حقوق کے کارکن اسے آئینی حقِ اجتماع پر قدغن قرار دیتے ہیں۔
صوبے بھر میں پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے اور اہم سرکاری تنصیبات کے قریب کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام امن برقرار رکھنے میں کتنا کامیاب ہوتا ہے یا مزید تصادم کا باعث بنتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
