اسلام آباد — سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقی کو پیر کے روز دی گئی ایک بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی آبادی 2030 تک 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی جبکہ 2050 تک اس کے 39 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالولی خان نے آبادی میں اضافے کے رجحانات پر کمیٹی کو مطلع کیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے ملکی آبادی کے مستند اعداد و شمار جمع کرنے والے بنیادی سروے (PDHS) میں گزشتہ 8 سال سے جاری تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ ہر صورت آئندہ جون تک اس سروے کو مکمل کریں کیونکہ درست ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے پالیسی سازی میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آبادی پر قابو پانے کے قومی ایکشن پلان کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جس کے تحت سال 2022 میں لگ بھگ 11 ملین مانع حمل مصنوعات خریدی گئی تھیں، تاہم ان کی ایک بڑی مقدار اب تک غیر استعمال شدہ ہے اور مارکیٹ میں موجود ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے فنڈز کے اس سست استعمال اور منصوبہ بندی کی کمی پر متعلقہ محکموں کی سرزنش کی۔ واضح رہے کہ اسی ماہ کے آغاز میں وزیر اعظم شہباز شریف نے آبادی کے بے ہنگم اضافے سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ اختیاری ‘نیشنل پاپولیشن کونسل’ بھی تشکیل دی ہے، جس کے سربراہ وہ خود ہیں اور اس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اور عسکری قیادت بھی شامل ہے تاکہ قومی سطح پر اس چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکے۔
