کراچی — صوبائی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ کراچی کی اہم ترین یونیورسٹی روڈ پر مکسڈ ٹریفک لین (عام گاڑیوں کے لیے سڑک) کی تعمیر کا کام جولائی کے آخر تک مکمل کر لیا جائے گا۔
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے تعمیراتی مقامات کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے بتایا کہ فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی ٹیمیں یونیورسٹی روڈ پر دن رات کام کر رہی ہیں تاکہ منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ اس موقع پر سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
صوبائی وزیر نے منصوبے کی وجہ سے شہریوں کو درپیش مشکلات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس ترقیاتی کام کے باعث عوام کو عارضی طور پر شدید سفری تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے لیے حکومت نے کچھ سخت فیصلے کیے اور وہ اس تکلیف پر عوام سے معذرت خواہ ہیں۔
وفاقی منصوبہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے شرجیل میمن نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ پاکستان میں موٹروے نیٹ ورک کا آغاز کراچی سے ہونا چاہیے تھا، لیکن ماضی کی پلاننگ میں اس کے بالکل برعکس کیا گیا اور کراچی کو نظرانداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کے آخری سرے پر واقع ہونے کے باوجود پورے ملک کا بوجھ اٹھا رہا ہے جبکہ شہر کو اس وقت پانی کی 20 فیصد قلت کا بھی سامنا ہے۔
دوسری جانب، انہوں نے شاہراہِ بھٹو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم شاہراہ کے کھلنے سے شہریوں کو سفر میں بڑی سہولت ملی ہے اور اس سے مسافروں کے قیمتی وقت کی بچت ہو رہی ہے۔
