اسلام آباد: قومی اسمبلی نے مالی سال 25-2024 کے لیے 500 ارب روپے سے زائد کے ضمنی بجٹ (Supplementary Grants) اور مالی سال 26-2025 کے لیے تقریباً 475 ارب روپے کی اضافی مالی گرانٹس کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منظوری پارلیمانی اجلاس کے دوران دی گئی جہاں مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کی جانب سے پیش کردہ اضافی مالی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ فنڈز ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں جو اصل وفاقی بجٹ میں مکمل طور پر شامل نہیں تھے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق ضمنی گرانٹس مختلف شعبوں بشمول قرضوں کی ادائیگی، سرکاری انتظامی امور، ترقیاتی منصوبوں، سیکیورٹی اخراجات اور حکومتی اداروں کی آپریشنل ضروریات کے لیے منظور کی گئی ہیں۔ FY26 کے لیے اضافی فنڈز کا مقصد اہم سرکاری خدمات کے تسلسل اور نئی مالی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
حکومتی نمائندوں نے ایوان کو بتایا کہ یہ اخراجات ناگزیر تھے اور عوامی خدمات کی بلا تعطل فراہمی کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت پیش آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتی معاشی صورتحال اور غیر متوقع مالی ذمہ داریوں کے باعث یہ اقدامات ضروری تھے۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے مالی نظم و ضبط، بجٹ سازی کے عمل اور سرکاری اخراجات میں شفافیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضمنی گرانٹس کے استعمال پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال ہو سکے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ضمنی بجٹ سرکاری مالیاتی نظام کا ایک معمول کا حصہ ہوتا ہے، تاہم بہتر مالی منصوبہ بندی کے ذریعے اضافی گرانٹس پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔
قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ اضافی اخراجات حکومت کی مالیاتی حکمت عملی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ اہداف پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
