اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے خلیجی کشیدگی اور توانائی کے ممکنہ خطرات کے پس منظر میں طویل عرصے سے تعطل کا شکار ریفائنری اپ گریڈ منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ حکام اب براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی پر نئے سرے سے پیش رفت چاہتے ہیں تاکہ مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے رکی ہوئی سرمایہ کاری دوبارہ چل سکے، جس کا حجم تقریباً 6 ارب ڈالر بتایا جا رہا ہے۔
اصل رکاوٹ ٹیکس ڈھانچے اور آئی ایم ایف کے اعتراضات بنے ہوئے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کے موجودہ نظام نے ریفائنریوں کے لیے اپ گریڈ منصوبوں کی معاشی بنیاد کمزور کر دی۔ صنعت کا مؤقف ہے کہ جب تک پالیسی میں ایسا قابلِ عمل فریم ورک نہیں آتا جس سے سرمایہ کار اور قرض دہندگان مطمئن ہوں، اس وقت تک زیادہ تر ریفائنریاں بڑے مالی فیصلے نہیں کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت دوبارہ آئی ایم ایف سے بات چیت کھولنے کی تیاری میں ہے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک صرف پاکستان ریفائنری لمیٹڈ نے حکومت کے ساتھ عملدرآمد کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جبکہ دیگر ریفائنریوں نے موجودہ ٹیکس پالیسی کے باعث پیچھے ہٹنے یا انتظار کی حکمتِ عملی اپنائی ہوئی ہے۔ حکام یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف نرم موقف اختیار نہیں کرتا تو براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی میں مزید تبدیلیاں کر کے منصوبوں کو دوبارہ قابلِ عمل بنایا جائے۔
اس پوری پیش رفت کو صرف ایک صنعتی یا مالیاتی معاملہ سمجھنا غلط ہوگا۔ پس منظر میں خلیج کی بگڑتی صورتحال نے اسے قومی توانائی سلامتی کے مسئلے میں بدل دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی، جہاز رانی کے خطرات اور تیل و گیس کی سپلائی پر دباؤ نے دنیا بھر کی منڈیوں کو غیر یقینی میں دھکیل دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی حالیہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ اس راستے پر دباؤ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا، اور تیل کی رسد، بیمہ لاگت اور مال برداری کے نرخ اب بھی خطرے کے دائرے میں ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ خطرہ اور بھی زیادہ حساس ہے کیونکہ ملک کی درآمدی توانائی پر انحصار پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔ تازہ رپورٹس میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے پاس بھارت کی طرح بڑے اسٹریٹجک آئل ریزروز موجود نہیں، جس سے اچانک بیرونی جھٹکوں کے وقت کمزوری بڑھ جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت کے لیے مقامی ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں رہی، بلکہ سپلائی سکیورٹی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
ریفائنری سیکٹر کافی عرصے سے یہ مطالبہ کرتا آ رہا ہے کہ اپ گریڈیشن کے بغیر ملک صاف اور معیاری ایندھن کی مقامی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکے گا۔ براؤن فیلڈ پالیسی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ موجودہ ریفائنریوں کو جدید بنایا جائے، یورو معیار کے قریب ایندھن پیدا ہو، اور فرنس آئل پر غیر ضروری انحصار کم کیا جائے۔ لیکن پالیسی اعلان سے عملی نفاذ تک کا سفر بار بار رکنے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا ہے۔
حکومت کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک طرف آئی ایم ایف مالی نظم و ضبط اور ٹیکس استثنا پر سختی دکھا رہا ہے، اور دوسری طرف مقامی صنعت کہہ رہی ہے کہ بغیر ہدفی ریلیف کے منصوبے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ یہی کشمکش اب دوبارہ پالیسی سطح پر فیصلہ مانگ رہی ہے۔ اگر اسلام آباد اور آئی ایم ایف کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکل آتا ہے تو رکی ہوئی سرمایہ کاری بحال ہو سکتی ہے، ورنہ حکومت کو ریفائنری پالیسی میں مزید ترمیم کرنا پڑے گی۔
مختصراً، حکومت کی یہ تازہ کوشش محض ایک پرانی فائل کھولنے کا معاملہ نہیں۔ خلیجی کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کے لیے ایندھن کی درآمد، ذخیرہ اندوزی اور مقامی ریفائننگ صلاحیت اب براہِ راست قومی معاشی تحفظ سے جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے ریفائنری پالیسی کی بحالی اب صنعتی اصلاح سے بڑھ کر ایک تزویراتی ضرورت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
