سیئول: نیٹ فلکس کی نئی کوریائی ہارر سیریز If Wishes Could Kill نے یہ دکھا دیا ہے کہ ہر کامیابی کے لیے بڑے نام ضروری نہیں ہوتے۔ 24 اپریل 2026 کو ریلیز ہونے والی آٹھ اقساط پر مشتمل اس سیریز نے اپنی ریلیز کے فوراً بعد عالمی سطح پر توجہ سمیٹی۔ نیٹ فلکس کی گلوبل نان انگلش ٹی وی فہرست میں یہ پہلے ہی ہفتے 2.8 ملین ویوز کے ساتھ چوتھے نمبر پر پہنچ گئی، جبکہ جنوبی کوریا میں بھی اس نے نمایاں مقبولیت حاصل کی۔
یہ کہانی ایک ہائی اسکول کے چند طلبہ کے گرد گھومتی ہے جنہیں ایک پراسرار موبائل ایپ، Girigo، ان کی خواہشیں پوری کرنے کا لالچ دیتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر خواہش کی قیمت بہت بھاری نکلتی ہے۔ ایپ نہ صرف خواہش پوری کرتی ہے بلکہ صارفین کی اچانک موت کی پیش گوئی بھی کرنے لگتی ہے، اور پھر طلبہ ایک خوفناک سلسلے میں پھنس جاتے ہیں جہاں بقا ہی اصل جنگ بن جاتی ہے۔
سیریز کی خاص بات صرف اس کا پلاٹ نہیں، بلکہ اس کی کاسٹنگ بھی ہے۔ مرکزی کردار نسبتاً نئے اور کم معروف اداکاروں نے نبھائے ہیں، جن میں جیون سو ینگ، کانگ می نا، بیک سن ہو، ہیون وو سوک اور لی ہیو جے شامل ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے اس ڈرامے کو دوسری نیٹ فلکس ریلیزز سے الگ کیا۔ عام طور پر عالمی مارکیٹ میں توجہ حاصل کرنے کے لیے بڑے اسٹارز کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر یہاں معاملہ الٹ نکلا۔ مضبوط زبانی تشہیر، نوجوان کاسٹ کی تازگی اور خوف و تجسس سے بھری کہانی نے شائقین کو اپنی طرف کھینچ لیا۔
ہدایت کار پارک یون سیو نے سیریز کے آغاز سے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ روایتی ہارر کے دائرے میں محدود نہیں رہنا چاہتے۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں ہارر کے ساتھ اوکلٹ، ایکشن اور اسکول ڈرامے کے عناصر کو ملایا گیا تاکہ آٹھ اقساط تک ناظر کی دلچسپی برقرار رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف خوف پیدا کرنا کافی نہیں، کہانی کو اتنا قابلِ یقین بھی ہونا چاہیے کہ ناظر آخر تک اس کے اندر ڈوبا رہے۔
مرکزی اداکارہ جیون سو ینگ، جو سیریز میں یو سی آہ کا کردار ادا کر رہی ہیں، نے بتایا کہ اپنے کردار کی جسمانی تیاری کے لیے انہوں نے تقریباً دو ماہ تک باقاعدہ ٹریننگ کی، کیونکہ ان کا کردار ایک باصلاحیت ایتھلیٹ کا ہے۔ دوسری طرف کانگ می نا نے اپنے کردار لم نا ری کو ایک حقیقت پسند، خوداعتماد اور نمایاں طالبہ قرار دیا، حالانکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود ہارر فلمیں دیکھنے سے گھبراتی ہیں۔ یہی تضاد اس پروجیکٹ کے انسانی پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
اس سیریز کی رفتار بھی غیر معمولی رہی۔ If Wishes Could Kill نے نیٹ فلکس کی 20 تا 26 اپریل 2026 والی عالمی نان انگلش ٹی وی رینکنگ میں 16.9 ملین گھنٹے دیکھے جانے کے ساتھ 2.8 ملین ویوز حاصل کیے۔ اسی دوران کوریا ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ جنوبی کوریا میں نمبر 1 اور FlixPatrol کی عالمی درجہ بندی میں نمبر 3 تک بھی پہنچی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سیریز نے صرف مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی ناظرین کو بھی متاثر کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ If Wishes Could Kill کی کامیابی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کوریائی مواد پہلے ہی عالمی اسٹریمنگ منظرنامے میں مضبوط جگہ بنا چکا ہے، مگر اس سیریز نے اپنی جگہ اسٹار پاور سے نہیں بلکہ ماحول، آئیڈیا اور رفتار سے بنائی۔ ایک جان لیوا ایپ، نوجوانوں کی بے بسی، دوستی، خوف اور تقدیر سے لڑائی — یہ سب مل کر اسے محض ایک ہارر شو نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے نوجوان ناظرین کے لیے ایک نفسیاتی اور جذباتی تجربہ بھی بنا دیتے ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سیریز ایک بڑے فرنچائز کی شکل اختیار کرے گی؟ ہدایت کار پارک یون سیو نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اب بھی اس پر غور کر رہے ہیں کہ آئندہ سیزن نئی کہانی سنائے گا یا موجودہ بیانیے کو آگے بڑھائے گا۔ ابھی اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ If Wishes Could Kill نے ثابت کر دیا ہے کہ اچھی کہانی، درست ماحول اور بااعتماد نئی کاسٹ مل جائے تو بغیر بڑے ستاروں کے بھی عالمی سطح پر شور مچایا جا سکتا ہے۔
