ڈھاکا میں کھیلے گئے تیسرے ٹی20 میچ میں نیوزی لینڈ نے بنگلہ دیش کو چھ وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔ بارش سے متاثرہ اس مقابلے میں بنگلہ دیش کی ٹیم صرف 102 رنز پر آؤٹ ہوگئی، جس کے جواب میں نیوزی لینڈ نے ہدف نسبتاً اعتماد کے ساتھ حاصل کر لیا۔ جیت کے مرکزی کردار بیون جیکبز رہے، جنہوں نے ناقابل شکست 62 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر میچ کا رخ مکمل طور پر بدل دیا۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ ابتدا ہی سے دباؤ میں دکھائی دی۔ وکٹیں وقفے وقفے سے گرتی رہیں اور ٹیم کبھی بھی ایسی شراکت قائم نہ کر سکی جو مجموعے کو لڑنے کے قابل بنا دیتی۔ 14.2 اوورز میں 102 رنز پر پوری ٹیم کا آؤٹ ہو جانا میزبان ٹیم کے لیے واضح دھچکا تھا، خاص طور پر اپنے ہی حالات میں، جہاں عام طور پر بنگلہ دیش مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔
نیوزی لینڈ کے تعاقب کا آغاز مکمل طور پر آسان نہیں تھا۔ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر شوریف الاسلام نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 19 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں اور کچھ دیر کے لیے مقابلہ دلچسپ بنا دیا۔ انہوں نے ابتدا میں نیوزی لینڈ پر دباؤ بھی ڈالا، مگر مسئلہ یہ تھا کہ دفاع کے لیے اسکور بہت کم تھا۔ ایسے میں بولرز کو تقریباً ہر اوور میں غیرمعمولی کارکردگی دکھانا پڑتی ہے، اور یہ زیادہ دیر ممکن نہیں رہتا۔
یہیں بیون جیکبز سامنے آئے۔
جیکبز نے نہ صرف وکٹ سنبھالی بلکہ ان کی اننگز میں وہ اعتماد بھی تھا جس نے بنگلہ دیش کی امیدیں دھیرے دھیرے ختم کر دیں۔ انہوں نے جلد بازی کے بغیر، مگر بھرپور اختیار کے ساتھ بیٹنگ کی اور آخر تک ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے اپنی ٹیم کو ہدف تک پہنچا دیا۔ ان کی 62 رنز کی اننگز اس میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔ سچ یہ ہے کہ یہی وہ اننگز تھی جس نے پورا فرق پیدا کیا۔
اس نتیجے کے ساتھ سیریز کا اختتام برابری پر ہوا۔ بنگلہ دیش نے پہلا میچ جیتا تھا، دوسرا مقابلہ بارش کی نذر ہوگیا، جبکہ تیسرے میچ میں نیوزی لینڈ نے مضبوط واپسی کرتے ہوئے حساب برابر کر دیا۔ مختصر سیریز میں ایک اچھی اننگز اکثر پوری کہانی بدل دیتی ہے، اور اس بار یہ کام جیکبز نے کیا۔
میچ کا ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آیا۔ لیگ اسپنر ایش سودھی اس مقابلے کے دوران نیوزی لینڈ کے لیے ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے، جو ان کے لیے ایک یادگار انفرادی سنگ میل ہے۔
بنگلہ دیش کے لیے اس شکست میں سب سے بڑا سوال ان کی بیٹنگ رہی۔ ہوم گراؤنڈ پر صرف 102 رنز بنانا ایسا اسکور نہیں تھا جسے آسانی سے بچایا جا سکے، چاہے شوریف الاسلام جیسی بہترین بولنگ ہی کیوں نہ ہو۔ دوسری طرف نیوزی لینڈ کے لیے یہ کامیابی صرف ایک میچ کی جیت نہیں بلکہ سیریز بچانے والی کارکردگی بھی تھی۔
