کراچی میں پولیس نے بدھ کی شب کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے بانی کے حق میں نعرے بازی کرنے اور جھنڈے لہرانے کے الزام میں 11 افراد کو حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاری شہر کے وسطی اضلاع میں عمل میں آئی، جسے حکام نے ممنوعہ بیانیے کے خلاف ایک سخت اقدام قرار دیا ہے۔
مقامی تھانے کی پولیس نے رہائشی علاقے کے قریب ایک اجتماع کی اطلاعات ملنے پر کارروائی کی۔ حکام نے موقع سے پارٹی کے پرانے نشانات والے کئی جھنڈے اور لندن میں مقیم قیادت سے منسلک اشتہاری مواد بھی قبضے میں لے لیا۔ تمام گرفتار افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔
یہ واقعہ جلاوطن رہنما کے خلاف صوبائی حکام کے سخت مؤقف کا تسلسل ہے۔ اگست 2016 کے کریک ڈاؤن کے بعد سے، ایم کیو ایم بانی کی حمایت میں کسی بھی قسم کی عوامی سرگرمی کو امن عامہ کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے، جس پر پولیس اکثر انسدادِ دہشت گردی یا امنِ عامہ کے قوانین کے تحت فوری کارروائی کرتی ہے۔
ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم شہر کے امن کو خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کریں گے۔” انہوں نے تصدیق کی کہ تفتیش کار گرفتار افراد کے ماضی کا ریکارڈ چیک کر رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کا تعلق کسی عسکری ونگ یا منظم سیاسی اشتعال انگیزی سے تو نہیں ہے۔
کراچی میں سخت سیکیورٹی کے باوجود، بانی کے حامیوں کے چھوٹے گروہ اب بھی متحرک ہیں۔ رات کے اندھیرے میں جھنڈے لگانا یا دیواروں پر چاکنگ کرنا، ایسے واقعات ہیں جن پر پولیس فوری حرکت میں آتی ہے۔ عزیز آباد اور لیاقت آباد جیسے علاقوں کے رہائشیوں کے لیے یہ گرفتاریاں کوئی نئی بات نہیں، جو شہر کی تقسیم شدہ سیاسی تاریخ کے زخموں کی عکاسی کرتی ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان 11 افراد کے خلاف ممکنہ طور پر اشتعال انگیزی اور امن عامہ کو متاثر کرنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو انہیں قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم وکلاء صفائی کا مؤقف ہے کہ سیاسی علامات کی نمائش آئینی طور پر اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں آتی ہے۔
فی الحال، پولیس نے اہم اضلاع میں گشت بڑھا دی ہے۔ تفتیش کاروں کو امید ہے کہ زیر حراست افراد سے پوچھ گچھ کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا یہ اجتماع ایک وقتی ردعمل تھا یا مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حدود کو جانچنے کی کوئی مربوط کوشش۔
