پاکستان نے مسلسل دو سال تاریخ کے گرم ترین سالوں کے طور پر ریکارڈ کیے ہیں۔ یہ موسمیاتی ڈیٹا اس رجحان کی تصدیق کرتا ہے جو ملک کے زرعی اور سماجی ڈھانچے کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔
شہری جو کچھ محسوس کر رہے تھے، اعداد و شمار نے اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ موسمِ سرما کی آمد میں تاخیر اور گرمی کی لہروں کا دورانیہ اور شدت بڑھنا اب معمول بن چکا ہے۔ یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ علاقائی آب و ہوا میں ایک بنیادی اور خطرناک بگاڑ ہے۔
پاکستان کی جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد حصہ زراعت پر منحصر ہے، اور گرمی کی یہ شدت اس شعبے کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں گندم کی فصلیں شدید دباؤ کا شکار ہیں، جہاں وقت سے پہلے پکنے کے عمل نے پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ نسلوں سے رائج کاشتکاری کے کیلنڈر اب بدلتے ہوئے درجہ حرارت اور بارشوں کے پیٹرن سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، شہروں میں بڑھتی ہوئی کنکریٹ کی تعمیرات اور درختوں کی کمی ‘اربن ہیٹ آئی لینڈ’ کا سبب بن رہی ہے۔ لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں سورج غروب ہونے کے بعد بھی درجہ حرارت کم نہیں ہوتا۔ جب رات کے وقت ٹھنڈک نہیں ملتی، تو انسانی جسم دن بھر کی حدت سے بحال نہیں ہو پاتا، جس کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک اور دیگر بیماریوں کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔
اس کا معاشی اثر بھی گہرا ہے۔ بجلی کی کھپت میں اضافے نے پہلے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار قومی گرڈ پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں لوڈشیڈنگ اب ایک معمول بن چکی ہے، جس سے صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی کے انتظام اور شہری منصوبہ بندی میں انقلابی تبدیلیاں نہ لائی گئیں، تو یہ "گرم ترین سال” معمول بن جائیں گے۔
اسلام آباد میں مقیم ایک موسمیاتی تجزیہ کار کا کہنا ہے، "ہم اس مرحلے سے گزر چکے ہیں جہاں ان گرمیوں کو محض ایک حادثہ سمجھا جائے۔ ڈیٹا ایک مستقل اور اوپر کی طرف بڑھتا ہوا رجحان ظاہر کر رہا ہے جس کے لیے ہمارا موجودہ انفراسٹرکچر تیار ہی نہیں ہے۔”
اگلے موسم کے لیے تیاریوں کے باوجود، حکومتی سطح پر پالیسی کا ردعمل سست ہے۔ توجہ اب بھی بحران کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے پر ہے، نہ کہ ان طویل مدتی ساختی تبدیلیوں پر جو ملک کو رہنے کے قابل رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
گرمی اب صرف موسم کی خبر نہیں رہی، بلکہ یہ قومی معیشت اور عوامی صحت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔ لاکھوں شہریوں کے لیے سوال یہ نہیں کہ کیا اگلا سال گرم ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ اس میں شدت کتنی ہوگی۔
