بحری جہاز سے منسلک ہینٹا وائرس کی وبا سے عام عوام کو خطرہ انتہائی کم ہے۔
صحت حکام کے مطابق گھبرانے یا سفری پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ انفیکشن عام میل جول سے آسانی سے نہیں پھیلتا۔ صورتحال کو متاثرہ افراد کی تنہائی، طبی دیکھ بھال، لیبارٹری ٹیسٹ اور بین الاقوامی رابطوں کے ذریعے قابو میں رکھا جا رہا ہے۔
یہ وبا ایم وی ہونڈیئس نامی بحری جہاز پر رپورٹ ہوئی، جہاں کئی مسافروں میں سانس کی شدید بیماری کی علامات سامنے آئیں۔ 4 مئی تک سات مصدقہ یا مشتبہ کیسز سامنے آئے تھے، جن میں تین اموات بھی شامل ہیں۔
ہینٹا وائرس عموماً متاثرہ چوہوں کے پیشاب، فضلے یا لعاب سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اینڈیز وائرس کی بعض سابقہ وباؤں میں انسان سے انسان میں محدود منتقلی رپورٹ ہوئی ہے، تاہم موجودہ واقعے سے عالمی آبادی کو مجموعی خطرہ کم ہے۔
مختلف ملکوں کے صحت حکام احتیاطی طور پر مسافروں اور ان سے قریبی رابطے میں آنے والے افراد کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ توجہ ممکنہ نمائش کا سراغ لگانے، متاثرہ مریضوں کے علاج اور مزید پھیلاؤ روکنے پر مرکوز ہے۔
