اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم آئل اور لبریکنٹس، یعنی پی او ایل، کے ذخائر جون کے تیسرے ہفتے تک ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ یقین دہانی ایسے وقت میں کرائی گئی ہے جب خطے میں کشیدگی، عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ اور ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے باعث عوامی اور تجارتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ سرکاری جائزوں میں حکام نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اطمینان بخش ہے اور فوری قلت کا کوئی خطرہ نہیں۔
حکومتی مؤقف یہ ہے کہ موجودہ طلب پوری کرنے کے لیے اسٹاک موجود ہے، تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ اگر بیرونی سپلائی لائنوں پر دباؤ بڑھتا ہے تو ذخائر لازمی حد سے نیچے نہ جانے پائیں۔ اوگرا پہلے بھی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو یاد دہانی کرا چکا ہے کہ وہ اپنے لائسنس کی شرائط کے مطابق کم از کم 20 دن کا لازمی ذخیرہ برقرار رکھیں۔
حالیہ اجلاسوں میں صرف مجموعی ذخائر ہی نہیں، بلکہ درآمدی شیڈول، ریفائنریوں کی پیداوار، زیرِ راہ کارگو اور ملک بھر میں سپلائی چین کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایک حالیہ کمیٹی اجلاس میں حکام کو بتایا گیا کہ جاری درآمدی منصوبے، آنے والے کارگو اور مقامی ریفائنریوں کی مسلسل آپریشنل سرگرمی کی وجہ سے رسد برقرار ہے۔ اضافی شپمنٹس کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی ذخائر مزید مضبوط رہیں۔
سرکاری اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں محتاط اطمینان کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ مارچ 2026 کے ایک جائزے میں بتایا گیا تھا کہ ڈیزل کے ذخائر تقریباً 25 دن کے لیے کافی تھے جبکہ خام تیل کا اسٹاک تقریباً 12 دن کا تھا، اور پیٹرول کی دستیابی موجودہ طلب کے لیے مناسب قرار دی گئی تھی۔ بعد کی بریفنگز میں بھی یہی تاثر دیا گیا کہ ملک میں اہم پیٹرولیم مصنوعات کا کور موجود ہے اور فوری بحران کا اندیشہ نہیں۔
تاہم معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں۔ پاکستان توانائی کے شعبے میں درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی یا بحری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، میں کسی رکاوٹ کا براہِ راست اثر ملکی سپلائی، قیمتوں اور مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت محض یقین دہانی پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، ہنگامی منصوبہ بندی اور ذخائر کی سطح کا مسلسل جائزہ بھی لے رہی ہے۔
گزشتہ برس اور حالیہ مہینوں میں بھی حکومت نے یہی مؤقف دہرایا کہ ملک میں پی او ایل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، لیکن ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی اسٹوریج اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکام کے نزدیک مسئلہ صرف کاغذی ذخائر کا نہیں، بلکہ مارکیٹ میں اس کی ہموار دستیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔
صارفین کے لیے فوری پیغام یہی ہے کہ اس وقت ملک گیر ایندھن بحران کے آثار نظر نہیں آتے۔ مگر پالیسی ساز اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ اطمینان کا انحصار آنے والے ہفتوں میں درآمدی بہاؤ، شپنگ روٹس کے تحفظ، عالمی قیمتوں کے رجحان اور کمپنیوں کی جانب سے لازمی ذخائر برقرار رکھنے پر ہوگا۔ ابھی کے لیے حکومت مطمئن دکھائی دیتی ہے، مگر مکمل بے فکری کی فضا نہیں۔
