MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
کاروبار اور تجارت

پاکستان کا کہنا ہے کہ پی او ایل ذخائر جون کے تیسرے ہفتے تک کافی ہیں، مگر رسد پر کڑی نظر برقرار

Last updated: مئی 4, 2026 11:43 شام
Yamna Shahid
Share
پاکستان کا کہنا ہے کہ پی او ایل ذخائر جون کے تیسرے ہفتے تک کافی ہیں، مگر رسد پر کڑی نظر برقرار
پاکستان کا کہنا ہے کہ پی او ایل ذخائر جون کے تیسرے ہفتے تک کافی ہیں، مگر رسد پر کڑی نظر برقرار
SHARE

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم آئل اور لبریکنٹس، یعنی پی او ایل، کے ذخائر جون کے تیسرے ہفتے تک ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ یقین دہانی ایسے وقت میں کرائی گئی ہے جب خطے میں کشیدگی، عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ اور ممکنہ سپلائی رکاوٹوں کے باعث عوامی اور تجارتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ حالیہ سرکاری جائزوں میں حکام نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اطمینان بخش ہے اور فوری قلت کا کوئی خطرہ نہیں۔

حکومتی مؤقف یہ ہے کہ موجودہ طلب پوری کرنے کے لیے اسٹاک موجود ہے، تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ اگر بیرونی سپلائی لائنوں پر دباؤ بڑھتا ہے تو ذخائر لازمی حد سے نیچے نہ جانے پائیں۔ اوگرا پہلے بھی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو یاد دہانی کرا چکا ہے کہ وہ اپنے لائسنس کی شرائط کے مطابق کم از کم 20 دن کا لازمی ذخیرہ برقرار رکھیں۔

حالیہ اجلاسوں میں صرف مجموعی ذخائر ہی نہیں، بلکہ درآمدی شیڈول، ریفائنریوں کی پیداوار، زیرِ راہ کارگو اور ملک بھر میں سپلائی چین کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایک حالیہ کمیٹی اجلاس میں حکام کو بتایا گیا کہ جاری درآمدی منصوبے، آنے والے کارگو اور مقامی ریفائنریوں کی مسلسل آپریشنل سرگرمی کی وجہ سے رسد برقرار ہے۔ اضافی شپمنٹس کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی ذخائر مزید مضبوط رہیں۔

سرکاری اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس معاملے میں محتاط اطمینان کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ مارچ 2026 کے ایک جائزے میں بتایا گیا تھا کہ ڈیزل کے ذخائر تقریباً 25 دن کے لیے کافی تھے جبکہ خام تیل کا اسٹاک تقریباً 12 دن کا تھا، اور پیٹرول کی دستیابی موجودہ طلب کے لیے مناسب قرار دی گئی تھی۔ بعد کی بریفنگز میں بھی یہی تاثر دیا گیا کہ ملک میں اہم پیٹرولیم مصنوعات کا کور موجود ہے اور فوری بحران کا اندیشہ نہیں۔

تاہم معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں۔ پاکستان توانائی کے شعبے میں درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی یا بحری راستوں، خاص طور پر آبنائے ہرمز، میں کسی رکاوٹ کا براہِ راست اثر ملکی سپلائی، قیمتوں اور مہنگائی پر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت محض یقین دہانی پر اکتفا نہیں کر رہی بلکہ روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، ہنگامی منصوبہ بندی اور ذخائر کی سطح کا مسلسل جائزہ بھی لے رہی ہے۔

گزشتہ برس اور حالیہ مہینوں میں بھی حکومت نے یہی مؤقف دہرایا کہ ملک میں پی او ایل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے، لیکن ساتھ ہی ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی اسٹوریج اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی کی تنبیہ بھی کی گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ حکام کے نزدیک مسئلہ صرف کاغذی ذخائر کا نہیں، بلکہ مارکیٹ میں اس کی ہموار دستیابی بھی اتنی ہی اہم ہے۔

صارفین کے لیے فوری پیغام یہی ہے کہ اس وقت ملک گیر ایندھن بحران کے آثار نظر نہیں آتے۔ مگر پالیسی ساز اچھی طرح جانتے ہیں کہ موجودہ اطمینان کا انحصار آنے والے ہفتوں میں درآمدی بہاؤ، شپنگ روٹس کے تحفظ، عالمی قیمتوں کے رجحان اور کمپنیوں کی جانب سے لازمی ذخائر برقرار رکھنے پر ہوگا۔ ابھی کے لیے حکومت مطمئن دکھائی دیتی ہے، مگر مکمل بے فکری کی فضا نہیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article لاجسٹک رکاوٹیں کم ہوتے ہی اٹک ریفائنری نے مرکزی خام تیل پراسیسنگ یونٹ دوبارہ چلا دیا لاجسٹک رکاوٹیں کم ہوتے ہی اٹک ریفائنری نے مرکزی خام تیل پراسیسنگ یونٹ دوبارہ چلا دیا
Next Article خلیجی کشیدگی میں اضافہ، فجیرہ کے آئل زون پر ڈرون حملے سے آگ بھڑک اٹھی خلیجی کشیدگی میں اضافہ، فجیرہ کے آئل زون پر ڈرون حملے سے آگ بھڑک اٹھی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کا مارچ: ممکنہ کشیدگی پر شکوک وارننگ
بریکنگ نیوز
ستمبر 29, 2026
CTE کو زندہ افراد میں شناخت کرنا: نئی تحقیق سے امید
بلاگ
ستمبر 29, 2026
ٹرمپ حکام نرسنگ ہومز کے لیے کووڈ-19 رپورٹنگ کی لازمی شرائط ختم کر سکتے ہیں
بریکنگ نیوز
ستمبر 29, 2026
درشن راول نے نئے ای پی ’دی ایور آفٹر‘ کا اعلان کردیا، چار گانوں کی ٹریک لسٹ اور کور آرٹ بھی جاری
درشن راول نے نئے ای پی ’دی ایور آفٹر‘ کا اعلان کردیا، چار گانوں کی ٹریک لسٹ اور کور آرٹ بھی جاری
انٹرٹینمنٹ تازہ ترین
ستمبر 29, 2026
متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ابوظبی دورے کی تصدیق کردی
متحدہ عرب امارات نے نیتن یاہو کے ابوظبی دورے کی تصدیق کردی
تازہ ترین سیاست
ستمبر 29, 2026
ٹرمپ کے دور میں نیشنل پارکس: تحفظ سے کمرشلائزیشن تک کا سفر
ٹرمپ کے دور میں نیشنل پارکس: تحفظ سے کمرشلائزیشن تک کا سفر
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
ستمبر 29, 2026

You Might Also Like

کراچی بندرگاہ پر 2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں
تازہ ترینکاروبار اور تجارت

کراچی بندرگاہ پر 2,000 سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

By Haris Ali
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: مستحقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار
تازہ ترینکاروبار اور تجارت

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: مستحقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار

By Haris Ali
برطانوی پاؤنڈ آج بھی روپے کے مقابلے میں مضبوط
Economyکاروبار اور تجارت

برطانوی پاؤنڈ آج بھی روپے کے مقابلے میں مضبوط

By Mabruka Khan
تازہ ترینکاروبار اور تجارت

برطانیہ کا ریگولیٹر لندن میں غیر قانونی کرپٹو ٹریڈنگ سائٹس کے خلاف متحرک

By Haris Ali
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?