متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں پیر، 4 مئی 2026 کو فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگ گئی، جس کے بعد سول ڈیفنس اور ہنگامی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ فجیرہ حکام نے کہا کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں فوراً شروع کر دی گئیں، جبکہ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے صرف سرکاری ذرائع پر بھروسا کریں۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس واقعے میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے، اور ان کی حالت درمیانی نوعیت کی بتائی گئی۔ خلیج ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ بھارتی سفارت خانہ بھی مقامی حکام سے رابطے میں ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج میں سکیورٹی کی صورتحال دوبارہ بگڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق اسی دن اماراتی فوج نے اپنی سمندری حدود کے اوپر تین ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا، جبکہ چوتھا میزائل سمندر میں گرا۔ اسی تناظر میں فجیرہ کا واقعہ صرف ایک مقامی صنعتی حادثہ نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی کشیدگی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
فجیرہ کی اہمیت معمولی نہیں۔ یہ امارات کے لیے ایک نہایت حساس توانائی مرکز ہے، کیونکہ یہاں تیل ذخیرہ کرنے، ترسیل اور برآمدات کے بڑے انتظامات موجود ہیں، اور یہ آبنائے ہرمز سے باہر واقع ہونے کے باعث خاص تزویراتی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اس مقام پر کسی بھی حملے کو صرف سکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ عالمی توانائی رسد کے لیے بھی ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ تجزیہ موجودہ رپورٹنگ اور فجیرہ کے اسٹریٹجک کردار کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امارات نے حالیہ حملوں کی مذمت کی ہے اور انہیں جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسی دوران امریکا آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ خطے میں بحری نقل و حرکت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ اس پس منظر میں فجیرہ کے آئل زون میں لگنے والی آگ نے نہ صرف امارات بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
ابھی تک حکام نے نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں، اس لیے یہ واضح نہیں کہ آگ سے ذخیرہ گاہوں، لوڈنگ سہولتوں یا برآمدی نظام پر کتنا اثر پڑا۔ تاہم ایک بات صاف ہے: خلیج میں کشیدگی پھر اس موڑ پر آ گئی ہے جہاں توانائی کے مراکز، بندرگاہیں اور بحری راستے براہِ راست خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں
