بھارت کی پانچ اہم ریاستوں اور ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں ہونے والے اسمبلی انتخابات نے قومی سیاست کا درجہ حرارت اچانک بڑھا دیا ہے، مگر سب سے زیادہ نظریں مغربی بنگال پر جمی رہیں۔ 4 مئی 2026 کو ووٹوں کی گنتی کے دوران ابتدائی اور جزوی نتائج نے یہ اشارہ دیا کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی، یعنی بی جے پی، پہلی بار مغربی بنگال میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں پہنچ گئی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور گارجین دونوں نے اسے ایک بڑی سیاسی تبدیلی قرار دیا، کیونکہ ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس 2011 سے وہاں برسرِ اقتدار تھی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق ان انتخابات کا شیڈول 15 مارچ 2026 کو جاری کیا گیا تھا۔ آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں پولنگ 9 اپریل کو ہوئی، تمل ناڈو میں 23 اپریل کو، جبکہ مغربی بنگال میں ووٹنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو کرائی گئی۔ اسی شیڈول نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ نتائج 4 مئی کو آئیں گے۔
مغربی بنگال کی اہمیت صرف ایک ریاستی انتخاب تک محدود نہیں تھی۔ یہ انتخاب دراصل اس سوال کا امتحان بھی بن گیا کہ کیا بی جے پی ایک ایسی ریاست میں مکمل اقتدار حاصل کر سکتی ہے جہاں وہ ایک وقت میں حاشیے کی جماعت سمجھی جاتی تھی۔ ابتدائی نتائج کے مطابق پارٹی نے 294 رکنی اسمبلی میں اکثریت کی حد عبور کرنے کی سمت واضح پیش رفت کی۔ اس کے سیاسی اثرات دہلی تک محسوس کیے جائیں گے، کیونکہ ممتا بنرجی کو طویل عرصے سے مودی حکومت کے بڑے ناقدین میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔
اس انتخابی مرحلے کی دلچسپی صرف بنگال تک محدود نہیں رہی۔ آسام میں رپورٹوں کے مطابق بی جے پی اتحاد نے اپنی حکومت برقرار رکھی، جس سے شمال مشرق میں پارٹی کی گرفت مزید مضبوط دکھائی دی۔ پڈوچیری میں بھی بی جے پی کے حامی اتحاد کے لیے نتائج حوصلہ افزا رہے۔ دوسری طرف کیرالہ میں اقتدار کا رخ کانگریس کی قیادت والے اتحاد کی جانب مڑتا دکھا، جبکہ تمل ناڈو میں مقابلہ محض روایتی جماعتوں تک محدود نہیں رہا اور وہاں نئی سیاسی قوتوں کی کارکردگی نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ 4 مئی کی کوریج کا بڑا حصہ گنتی کے دوران آنے والے جزوی نتائج پر مبنی تھا، اس لیے نشستوں کی آخری تعداد اور بعض حلقوں کے حتمی فاتحین میں بعد میں معمولی ردوبدل ہو سکتا ہے۔ پھر بھی مجموعی رجحان اتنا واضح تھا کہ بڑے بین الاقوامی اداروں نے مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کو ایک تاریخی موڑ کے طور پر پیش کیا۔
ان انتخابات سے ایک وسیع تر سیاسی سبق بھی نکلتا ہے: بھارت کی ریاستی سیاست اب بھی یکساں نہیں چلتی۔ آسام میں حکومتی تسلسل نے فائدہ دیا، کیرالہ میں پرانا سیاسی ردھم واپس آتا دکھا، تمل ناڈو میں علاقائی حرکیات نے قومی بیانیے کو پیچھے چھوڑ دیا، اور مغربی بنگال میں اقتدار کی بنیاد ہی ہل گئی۔ یعنی ایک ہی دن کے نتائج ضرور تھے، مگر ہر ریاست کی کہانی الگ تھی۔
