بھارت کی سیاست میں ایک بڑا اور غیر متوقع موڑ سامنے آیا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی، یعنی بی جے پی، نے پہلی بار مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس فتح کے ساتھ ہی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کے طویل اقتدار کا خاتمہ ہو گیا، اور بنگال جیسی اہم ریاست میں طاقت کا توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ نتیجہ صرف ایک ریاستی الیکشن کا نتیجہ نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اسے قومی سیاست کے تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ مغربی بنگال ایک عرصے سے بی جے پی کے لیے مشکل میدان مانا جاتا تھا۔ پارٹی نے برسوں کوشش کی، بھرپور انتخابی مہم چلائی، اپنی تنظیم کو مضبوط کیا، مگر اقتدار تک رسائی نہ ہو سکی۔ اس بار صورتحال بدل گئی۔
294 رکنی اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے 148 نشستیں درکار تھیں، اور ابتدائی رجحانات سے لے کر حتمی نتائج تک یہی تاثر مضبوط ہوتا گیا کہ بی جے پی واضح اکثریت کے ساتھ آگے نکل چکی ہے۔ بعض رپورٹوں میں پارٹی کی نشستوں کی تعداد 200 سے بھی زیادہ بتائی گئی، جس سے یہ واضح ہوا کہ یہ محض معمولی کامیابی نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن عوامی مینڈیٹ ہے۔
نریندر مودی نے نتائج کے بعد اسے مغربی بنگال کے لیے “ایک نئے دور” کا آغاز قرار دیا۔ بی جے پی قیادت کی جانب سے اس فتح کو صرف انتخابی کامیابی نہیں بلکہ نظریاتی اور سیاسی پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا۔ پارٹی کے لیے یہ خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہے کہ بنگال کو طویل عرصے سے ان ریاستوں میں شمار کیا جاتا تھا جہاں علاقائی شناخت اور مقامی سیاست قومی جماعتوں، خاص طور پر بی جے پی، کے راستے میں رکاوٹ بنتی رہی ہے۔
دوسری طرف ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کے لیے یہ شکست بہت بڑا دھچکا ہے۔ ممتا بنرجی صرف ایک ریاستی رہنما نہیں تھیں؛ وہ قومی سطح پر بی جے پی مخالف سیاست کی نمایاں آواز بھی سمجھی جاتی رہی ہیں۔ مغربی بنگال میں ان کی ناکامی سے اپوزیشن کے اس بیانیے کو نقصان پہنچا ہے جو مودی حکومت کے خلاف متحد مزاحمت کی بات کرتا تھا۔
اس انتخاب کے دوران تنازعات بھی کم نہیں رہے۔ ووٹر فہرستوں میں تبدیلی اور بعض ووٹروں کے نام خارج ہونے کے معاملے نے سیاسی ماحول کو خاصا گرم رکھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا کہ اس عمل سے مخصوص طبقات، بالخصوص اقلیتوں، کو نقصان پہنچا، جبکہ حکام اور بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انتخابی عمل کو قانون کے مطابق قرار دیا۔ امکان ہے کہ یہ بحث نتائج کے بعد بھی جاری رہے گی۔
مغربی بنگال کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت بھی اس نتیجے کو مزید بڑا بنا دیتی ہے۔ بنگال نہ صرف آبادی کے لحاظ سے اہم ریاست ہے بلکہ مشرقی بھارت کی سیاست، سرحدی معاملات، علاقائی شناخت اور بنگلہ دیش سے متعلق پالیسی مباحث میں بھی مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب کو صرف صوبائی اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ مشرقی بھارت میں سیاسی اثر و رسوخ کی نئی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دیگر ریاستوں کے نتائج کو ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو بی جے پی کی یہ کامیابی اور بھی معنی خیز ہو جاتی ہے۔ 2024 کے عام انتخابات میں پارٹی کو جو سیاسی جھٹکا لگا تھا، اس کے بعد یہ فتح اس کے لیے نئی توانائی اور اعتماد کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ کم از کم اتنا تو واضح ہے کہ مغربی بنگال، جو ایک زمانے میں بی جے پی کے لیے تقریباً ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، اب اس کے سیاسی نقشے کا حصہ بن چکا ہے۔
