سعودی عرب نے 500 سے زیادہ نجی ملکیت والے تاریخی قصبوں اور دیہات کی بحالی اور دوبارہ فعالیت کے لیے ایک نئی پہل کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صرف پرانی بستیوں کو محفوظ بنانا نہیں بلکہ انہیں مقامی آبادی کے لیے ثقافتی اور معاشی سرگرمی کا مرکز بھی بنانا ہے۔ یہ اعلان سعودی وزیرِ ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے ریاض میں غیر منافع بخش ثقافتی شعبے کے فورم کے اختتام پر کیا۔
اس اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا مرکز حکومت نہیں بلکہ مقامی برادریاں ہیں۔ منصوبے کے تحت ان افراد اور گروہوں کو سہولت دی جائے گی جو اپنی ملکیت میں موجود تاریخی بستیوں کی مرمت، بحالی، انتظام اور فعال استعمال میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس پروگرام کے لیے درخواستیں 2026 کی آخری سہ ماہی میں طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
سعودی حکومت اس منصوبے کو ثقافتی تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی ترقی کے ایک ذریعہ کے طور پر بھی پیش کر رہی ہے۔ مطلب یہ کہ ان تاریخی مقامات کو صرف محفوظ کر کے چھوڑ نہیں دیا جائے گا، بلکہ کوشش یہ ہوگی کہ وہ سیاحت، دستکاری، ثقافتی تقریبات اور مقامی روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں۔ یوں ورثے کے تحفظ کو براہِ راست معاشی سرگرمی سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ اعلان ایک وسیع تر قومی پالیسی کا حصہ بھی معلوم ہوتا ہے۔ سعودی پریس ایجنسی پہلے رپورٹ کر چکی ہے کہ صرف عسیر کے علاقے میں 4,300 سے زیادہ تاریخی دیہات موجود ہیں، جن میں بعض کی عمر 500 سال سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح ہیریٹیج کمیشن نے 2024 میں 500 نئے مقامات کو شہری ورثے کے قومی رجسٹر میں شامل کیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں رجسٹرڈ شہری ورثہ مقامات کی تعداد 4,540 تک پہنچ گئی۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب توجہ صرف اندراج پر نہیں بلکہ عملی بحالی اور دوبارہ استعمال پر بھی دی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کی ایک اور اہم جہت یہ ہے کہ یہ خاص طور پر نجی ملکیت والی تاریخی آبادیوں پر توجہ دے رہا ہے۔ عام طور پر ایسے مقامات ایک مشکل صورتحال میں پھنس جاتے ہیں: وہ ثقافتی اعتبار سے اہم ہوتے ہیں، مگر مالکان کے پاس ان کی مرمت یا بحالی کے لیے مطلوبہ وسائل نہیں ہوتے۔ اگر یہ منصوبہ مؤثر طریقے سے نافذ ہو گیا تو بہت سی ایسی بستیاں، جو برسوں سے خستہ حالی کا شکار ہیں، دوبارہ زندہ ہو سکتی ہیں۔ یہ نتیجہ منصوبے کے ڈھانچے اور سعودی عرب میں موجود تاریخی بستیوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے اخذ کیا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب اب اپنے تاریخی ورثے کو محض ماضی کی یادگار کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کی ترقی کے ایک حصے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اب اصل سوال یہ ہوگا کہ اس منصوبے کے لیے مالی معاونت، مقامی شمولیت اور عملی نفاذ کس رفتار سے آگے بڑھتے ہیں۔ اگر یہ تینوں عناصر ساتھ چلتے رہے تو یہ پہل سعودی عرب کے تاریخی دیہات اور قصبوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
