قاہرہ — مصری سکیورٹی فورسز نے ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا ہے جو اعلیٰ عدالتی عہدیداروں کا روپ دھار کر شہریوں کو لوٹ رہا تھا۔ وزارت داخلہ نے منگل کی رات اس کارروائی کی تصدیق کی، جو ملک کے عدالتی نظام کے گرد بنے دھوکا دہی کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کی ایک غیر معمولی کوشش ہے۔
گرفتار ملزمان جعلی دستاویزات، سرکاری مہروں اور کرائے کی لگژری گاڑیوں کا استعمال کر کے خود کو بااثر جج ظاہر کرتے تھے۔ یہ گروہ خاص طور پر زمین کے تنازعات میں پھنسے ہوئے افراد کو نشانہ بناتا تھا، جنہیں عدالتی مقدمات جلد نمٹانے یا اپنے حق میں فیصلے کروانے کا جھانسہ دے کر بھاری رشوت وصول کی جاتی تھی۔
تحقیقات سے واقف ایک ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ ملزمان اتنے اعتماد سے کام کرتے تھے کہ عام شہری تو کیا، تجربہ کار وکلاء بھی دھوکا کھا جاتے تھے۔ یہ صرف کلرک نہیں بنتے تھے، بلکہ اعلیٰ ججوں کا لباس اور انداز اپنا کر سرکاری عمارتوں میں رعب جماتے تھے۔”
یہ فراڈ مصر کے پراپرٹی سیکٹر کی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھا کر کیا گیا۔ وہاں سرکاری دفتری کارروائیوں میں تاخیر سے تنگ آئے لوگ اکثر شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں، اور اسی کمزوری کو ان ملزمان نے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔
یہ گرفتاریاں ‘ایڈمنسٹریٹو کنٹرول اتھارٹی’ کو ملنے والی شکایات کے بعد عمل میں آئیں۔ تفتیش کاروں نے ہفتوں تک اس گروہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی، جس کے بعد گیزا میں ایک شکار سے ملاقات کے دوران انہیں رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔
اگرچہ وزارت داخلہ نے اس گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ عدالتی سکیورٹی پروٹوکولز کی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ گروہ سرکاری عمارتوں تک رسائی حاصل کرنے میں کیسے کامیاب ہوتا رہا؟
ملزمان اس وقت حراست میں ہیں اور ان پر جعل سازی، دھوکا دہی اور رشوت ستانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ملزمان کے رابطوں اور مالیاتی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
مصر کے طویل عدالتی عمل سے گزرنے والے ہزاروں شہریوں کے لیے یہ واقعہ ایک انتباہ ہے کہ عدالتی نظام میں شارٹ کٹ تلاش کرنا انہیں کتنی بڑی مصیبت میں ڈال سکتا ہے۔
