ڈونلڈ ٹرمپ کیلیفورنیا کے گاڑیوں کے اخراج سے متعلق خود مختار قوانین کو ختم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ اقدام ایک طویل قانونی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا جو نہ صرف امریکی آٹو انڈسٹری بلکہ پوری دنیا کی گاڑیوں کی تیاری کے رجحانات کو بدل سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ‘کلین ایئر ایکٹ’ کے تحت کیلیفورنیا کو حاصل اس خصوصی استثنیٰ کو منسوخ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کی بدولت ریاست اپنے سخت ماحولیاتی معیارات خود طے کرتی ہے۔ یہ استثنیٰ کیلیفورنیا کو 2035 تک پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر پابندی عائد کرنے کا قانونی اختیار دیتا ہے۔
یہ صرف ماحولیات کا معاملہ نہیں؛ یہ کیلیفورنیا کے اس معاشی دباؤ پر براہِ راست وار ہے جو وہ قومی مارکیٹ پر ڈالتا ہے۔ چونکہ کیلیفورنیا ایک بڑی مارکیٹ ہے، اس لیے کمپنیاں وہاں کے سخت معیارات پر پورا اترنے کے لیے اپنی گاڑیوں کو برقی بننے پر مجبور ہیں۔ ٹرمپ کی ٹیم اسے وفاقی اختیار میں مداخلت اور مینوفیکچرنگ میں رکاوٹ قرار دے رہی ہے۔
ٹرمپ کی ٹیم سے منسلک ایک مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "کیلیفورنیا کو قومی توانائی پالیسی طے کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ہم ایک ایسی منڈی چاہتے ہیں جہاں وفاقی حکومت ضابطے طے کرے، نہ کہ کوئی ریاستی بیوروکریسی۔”
کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل روب بونٹا نے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکم نامہ جاری ہوتے ہی ان کا دفتر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ ریاستی حکام کا مؤقف ہے کہ کیلیفورنیا کی جغرافیائی صورتحال اور آلودگی کے تاریخی مسائل اسے سخت قوانین بنانے کا حق دیتے ہیں۔
اس تنازع کا اثر پوری امریکی آٹو انڈسٹری پر پڑے گا۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ کامیاب ہوتی ہے تو آٹو کمپنیاں، جو پہلے ہی دو مختلف معیارات (کیلیفورنیا بمقابلہ باقی ریاستیں) سے تنگ تھیں، ممکنہ طور پر برقی گاڑیوں میں کی گئی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو سمیٹ سکتی ہیں۔ یہ اقدام ماحولیاتی معیارات میں ایک بڑی تنزلی کا باعث بن سکتا ہے۔
ماحولیاتی کارکنان اس اقدام کو ایک سنگین غلطی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں ریکارڈ توڑ گرمی اور جنگلات کی آگ اس بات کا ثبوت ہے کہ سخت ماحولیاتی پالیسیاں سیاسی ترجیح نہیں بلکہ عوامی صحت کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہیں۔
یہ ٹکراؤ ایگزیکٹو پاور کی حدود کا امتحان ہوگا۔ اگرچہ ٹرمپ کے پاس استثنیٰ چیلنج کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن ماضی میں عدالتیں ریاستوں سے ان کے تاریخی ریگولیٹری حقوق چھیننے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔
فی الحال آٹو انڈسٹری ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ کمپنیاں اس انتظار میں ہیں کہ آیا انہیں اپنے پروڈکشن پلانز کو واپس روایتی انجنوں کی طرف موڑنا پڑے گا، یا کیلیفورنیا کی قانونی ٹیم ٹرمپ انتظامیہ کے اس دباؤ کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
