برطانیہ کے جنوبی حصوں میں موسلادھار بارشوں کے بعد سیلابی ریلوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے کئی علاقوں کے لیے ’ایمبر الرٹ‘ جاری کر دیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بارشوں کا یہ سلسلہ جمعرات کی صبح سے شروع ہوا، جس نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، جبکہ ریل سروسز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ساؤتھ ویسٹرن ریلوے کے مطابق، ٹریک پر پانی آنے اور سگنلنگ کے مسائل کے باعث کئی ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں یا منسوخ کر دی گئی ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ انگلش چینل پر موجود کم دباؤ کا نظام مسلسل نمی لے کر آ رہا ہے، جس سے ایک ہی علاقے میں طویل وقت تک شدید بارش ہو رہی ہے۔ کچھ مقامات پر 24 گھنٹوں کے دوران 60 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ ماہانہ اوسط کا نصف سے زیادہ حصہ ہے۔
ماحولیاتی ایجنسی کے ترجمان نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمین پہلے ہی نمی سے سیراب ہو چکی ہے، جس کے باعث پانی جذب ہونے کے بجائے سطح پر جمع ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال نشیبی علاقوں میں اچانک سیلاب کا باعث بن رہی ہے۔
سرے اور سسیکس کے دیہی علاقوں میں پھنسے ہوئے شہریوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں متحرک ہیں۔ مقامی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ڈرائیور بہتے ہوئے پانی میں گاڑی نہ ڈالیں، کیونکہ صرف ایک فٹ گہرا پانی گاڑی کو بہا لے جانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
شام کے اوقات میں ٹریفک کا دباؤ بڑھنے کے ساتھ حادثات کا خدشہ بھی زیادہ ہے۔ ایم 25 اور ایم 3 جیسے مصروف ترین راستوں پر گاڑی چلانے والوں کو خاص طور پر محتاط رہنے کا کہا گیا ہے۔
بارش کا یہ سلسلہ جمعہ کی صبح تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ تب تک حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور مقامی کونسل کی جانب سے جاری کردہ الرٹس پر نظر رکھنے کی تلقین کی ہے۔ آسمان صاف ہونے کے بعد ہی نقصان کا حتمی تخمینہ لگایا جا سکے گا۔
