سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کی 250 ویں سالگرہ کے موقع پر اسے امریکی خودمختاری اور عالمی استحکام کی واحد ضامن قرار دیا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے روایتی سیاسی بیانات سے گریز کرتے ہوئے امریکی فوج کی تاریخی بنیادوں پر توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے کہا کہ فوج کی یہ طویل تاریخ محض وقت کا گزرنا نہیں، بلکہ اس ‘جنگجو جذبے’ کا نتیجہ ہے جس کا مقابلہ آج بھی کوئی عالمی حریف نہیں کر سکتا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پینٹاگون کو بجٹ کے مسائل اور نئی بھرتیوں میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ 250 سالہ سنگِ میل کو موضوع بنا کر ٹرمپ نے موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے بجائے امریکی عسکری ورثے کی مرکزیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔
ٹرمپ نے مجمعے سے خطاب میں کہا، "ہمارے پاس بہترین لوگ، جدید ترین آلات اور ایسی تاریخ ہے جس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ دوسرے ممالک طاقت کے دعوے کرتے ہیں، مگر ہماری فوج نے ڈھائی سو برسوں سے اس طاقت کو ثابت کیا ہے۔”
ناقدین اکثر ٹرمپ کے ان بیانات اور محکمہ دفاع کو درپیش زمینی حقائق کے درمیان خلیج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب میں تاخیر اور بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست بڑے مسائل ہیں۔ تاہم، ٹرمپ کے حامیوں کے لیے یہ سالگرہ ملکی سیاست کی تقسیم کے اس دور میں فوج کا مورال بلند کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
امریکی فوج کی یہ 250 ویں سالگرہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے سابق فوجیوں کی حمایت حاصل کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ موجودہ انتظامیہ جہاں نئی ٹیکنالوجیز اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے پر توجہ دے رہی ہے، وہیں ٹرمپ کا بیانیہ اب بھی ‘طاقت کے ذریعے امن’ کے روایتی فلسفے پر قائم ہے۔
یہ تاریخی ورثہ آئندہ پالیسیوں میں کس حد تک اثر انداز ہوگا، یہ دفاعی تجزیہ کاروں کے لیے ایک اہم سوال ہے۔ فی الحال ٹرمپ اس بات پر قائل ہیں کہ امریکی عوام کا فوج کی ڈھائی سو سالہ تاریخ سے جذباتی لگاؤ ان کے سیاسی بیانیے کو تقویت دینے کے لیے ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہوگا۔
