ٹک ٹاک پر اپنی ویڈیوز وائرل کرنے کے شوق نے آف روڈرز کے ایک گروپ کو بڑی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ حکام نے ان ڈرائیورز کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے جنہوں نے ایک محفوظ قدرتی علاقے میں اپنی گاڑیوں سے تباہی مچائی اور اس کے ثبوت خود سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔
یہ واقعہ ایک ایسے حساس علاقے میں پیش آیا جہاں کی نباتات اور نایاب پرندوں کی افزائش گاہیں سرکاری طور پر محفوظ ہیں۔ رینجرز کے مطابق، ان افراد نے نہ صرف رکاوٹوں کو توڑا بلکہ ایسی زمین پر گاڑیاں دوڑائیں جسے بحال ہونے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
سائٹ کی لیڈ رینجر سارہ جینکنز نے بتایا کہ "وہ محض گاڑی نہیں چلا رہے تھے، وہ صرف بہترین شاٹ لینے کے چکر میں تھے۔ انہوں نے دو تالے والے گیٹس کو نظر انداز کیا اور گھنٹوں تک ٹیلوں کو اپنی ویڈیوز کے لیے روندتے رہے۔”
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان ویڈیوز میں متعدد موڈیفائیڈ فور بائے فور (4×4) ٹرکوں کو ممنوعہ علاقوں میں ڈرفٹنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈرائیورز نے ویڈیوز میں لوکیشن کو بھی ٹیگ کیا، جس سے پارک حکام کے لیے مجرموں تک پہنچنا آسان ہوگیا۔ تفتیش کار اب ان کلپس کے میٹا ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ تباہی کے وقت اور ترتیب کا تعین کیا جا سکے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے رجحانات اب "تفریحی توڑ پھوڑ” کو فروغ دے رہے ہیں۔ ویوز اور فالوورز کی دوڑ میں ملوث افراد یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی ایک ویڈیو قدرتی ماحول کو کتنا نقصان پہنچا رہی ہے۔
بلیک ووڈ کے اس علاقے کو ماضی میں بھی نشانہ بنایا گیا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ مجرموں نے خود اپنے خلاف اتنے واضح ڈیجیٹل ثبوت چھوڑے ہیں۔ پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ویڈیوز کا خام ڈیٹا طلب کر لیا ہے، جسے عدالت میں مرکزی ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ان ڈرائیورز کو 18 ماہ تک قید اور 20 ہزار ڈالر تک کے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال، اس علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے تاکہ مٹی کو مزید کٹاؤ سے بچایا جا سکے اور متاثرہ زمین کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
