نیپال کی میلامچی وادی میں گزشتہ برس آنے والا تباہ کن سیلاب محض مون سون کی بارشوں کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس کی اصل وجہ ایک بہت بڑا برفانی تودہ گرنا تھا۔ بین الاقوامی ماہرینِ ارضیات کی تازہ تحقیق کے مطابق، یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پہاڑی تودے کا اچانک گرنا تھا جس نے لاکھوں کیوبک میٹر ملبہ ندی کے نظام میں شامل کر دیا تھا۔
اس ہفتے شائع ہونے والی تحقیق نے ان پرانے مفروضوں کو غلط ثابت کر دیا ہے جن کے مطابق نیپال میں آنے والے سیلاب صرف بارشوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ محققین نے نشاندہی کی ہے کہ جوگل ہمال کے پہاڑی سلسلے سے برف کے ایک بہت بڑے ٹکڑے کا ٹوٹنا اس تباہی کا بنیادی محرک تھا۔ جیسے ہی یہ برفانی تودہ گرا، اس نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کر دیا اور ندی کے پانی کو کیچڑ اور بھاری پتھروں کے ایک مہلک سیلاب میں بدل دیا۔
تحقیقی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا، "یہ صرف بارش کا پانی نہیں تھا۔ نیچے کی جانب بہنے والے ملبے کی مقدار بتاتی ہے کہ یہ توانائی کا ایک ایسا اچانک اخراج تھا جو صرف گلیشیئر کے گرنے سے ہی ممکن ہے۔”
اس واقعے نے درجنوں جانیں لیں اور میلامچی واٹر سپلائی پروجیکٹ کے انفراسٹرکچر کو مکمل تباہ کر دیا، جو کھٹمنڈو کے لیے پینے کے پانی کا اہم ذریعہ تھا۔ اس تباہی کے بعد دارالحکومت کے مکینوں کو مہینوں تک پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔
ہمالیائی خطے کے لیے یہ نتائج تشویشناک ہیں۔ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے ساتھ، بلند پہاڑی سلسلوں پر موجود گلیشیئرز کا توازن غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ میلامچی کا واقعہ ان پہاڑی بستیوں کے لیے ایک "نئے معمول” کی پیشگوئی ہے، جہاں گرمی کے موسم میں پہاڑوں پر برف کا جمنا اب خطرے سے خالی نہیں رہا۔
مقامی حکام اب سیلاب سے بچاؤ کی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کرنے کے دباؤ میں ہیں۔ بارش سے پانی کی سطح بڑھنے کا پتہ لگانے والے روایتی ابتدائی انتباہی نظام پہاڑوں سے گرنے والے خاموش برفانی تودوں کے سامنے بے اثر ثابت ہو چکے ہیں۔
گلیشیئرز کی بدلتی ہوئی حرکیات کو سمجھے بغیر، نشیبی علاقوں میں تعمیر کردہ انفراسٹرکچر بدستور خطرے کی زد میں ہے۔ میلامچی کی تباہی نے ثابت کر دیا ہے کہ خطرہ صرف بادلوں میں نہیں، بلکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی موجود ہے جو کسی بھی وقت گرمی کی لہر کے ساتھ نیچے آ سکتا ہے۔
