نیپال میں شدید مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 95 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
تباہی کا مرکز کھٹمنڈو وادی اور اس سے ملحقہ اضلاع ہیں۔ ہفتے کے روز دریائے باگمتی اور دیگر ندی نالوں میں طغیانی کے بعد پانی آبادیوں میں داخل ہوا، جس سے کچے مکانات تنکوں کی طرح بہہ گئے۔ کئی دیہات کا رابطہ بیرونی دنیا سے مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے کیونکہ اہم شاہراہیں اور پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے ہیں۔
للت پور کے ایک متاثرہ رہائشی نے بتایا کہ "پانی اتنی تیزی سے آیا کہ ہمیں گھر سے نکلنے کا موقع تک نہیں ملا، ہماری جمع پونجی اور مویشی سب آنکھوں کے سامنے بہہ گئے۔”
ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نیپالی فوج اور پولیس ہیلی کاپٹرز کے ذریعے چھتوں پر پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم خراب موسم اور مسلسل بارشیں امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے امدادی ٹیمیں دور دراز پہاڑی علاقوں تک پہنچیں گی، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اس آفت نے نیپال کی زرعی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کٹائی کے قریب کھڑی ہزاروں ایکڑ فصلیں سیلاب کی نذر ہو چکی ہیں، جس سے آنے والے مہینوں میں خوراک کے بحران کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بجلی کے گرڈ اسٹیشنز کو پہنچنے والے نقصان کے باعث دارالحکومت اور گردونواح کے علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے، جبکہ صاف پانی کی عدم دستیابی سے وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
وزیراعظم کے پی شرما اولی نے متاثرین کو ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن مقامی سماجی کارکنوں کا ماننا ہے کہ حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے کنارے غیر قانونی تعمیرات اور ناقص شہری منصوبہ بندی نے معمولی بارشوں کو بھی ایک قومی المیے میں بدل دیا ہے۔
بارشوں کا سلسلہ اب تھم رہا ہے، لیکن تباہ شدہ دیہات میں ملبے تلے دبے اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف خاندانوں کے لیے یہ امداد اب بہت دیر سے پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔
